قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے گوگل ڈیپ مائنڈ مددگار، جانیں کیسے؟

پیر 17 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گوگل کا اے آئی ماڈل تیز اور درست پیشگوئیوں سے جان و مال بچانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اب اے آئی ہڈی کے فریکچر کی تشخیص بھی کرے گی، یہ ایکس رے مشین سے مخلتف کیسے؟

دنیا بھر میں اس سال شدید اور چیلنجنگ قدرتی آفات کے دوران گوگل نے اپنے جدید مصنوعی ذہانت یا اے آئی ماڈلز کی مدد سے ہریکین، سونامی اور سائیکلون جیسے انتہائی موسم کی درست پیشگوئی فراہم کرکے اہم کردار ادا کیا۔

گوگل ڈیپ مائنڈ دنیا کا پہلا اے آئی ماڈل ہے جس نے روایتی موسمیاتی پیشگوئی کرنے والے ماڈلز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ طویل عرصے تک یہ مانا جاتا رہا کہ قدرتی آفات کی درست پیشگوئی ممکن نہیں مگر ڈیپ لرننگ نے اب حقیقی وقت میں آفات کی نشاندہی اور پیشگوئی کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔

اس سال اٹلانٹک کے تمام 13 طوفانوں کے دوران گوگل ڈیپ مائنڈ کا ماڈل مسلسل سب سے آگے رہا اور انسانی ماہرین کی ٹریک پیشگوئیوں سے زیادہ بہتر ثابت ہوا۔

مزید پڑھیے: گوگل فوٹوز میں نئے مصنوعی ذہانت کے فیچرز متعارف

جب اس سال کا طاقتور ترین طوفان میلسا ہیٹی اور قریبی علاقوں کی سمت بڑھا، تو نیشنل ہریکین سینٹر کے ماہرین نے اندازہ لگایا کہ یہ ایک انتہائی خطرناک طوفان بن سکتا ہے۔

لیڈ فورکاسٹر نے گوگل کے اے آئی ماڈل کی مدد سے 24 گھنٹوں کے اندر پیشگوئی کی کہ یہ طوفان تیزی سے شدت پکڑ کر کیٹیگری 4 میں تبدیل ہو جائے گا اور جمیکا کے ساحل کی طرف مڑ جائے گا۔ یہ ایک غیر معمولی پیشگوئی تھی جو پہلے کبھی کسی نیشنل ہریکین سینٹر ماہر نے اس حد تک واضح انداز میں نہیں کی تھی۔

جون میں پہلی بار جاری کیے گئے اس ڈیپ مائنڈ ہریکین ماڈل نے بڑے موسم کے پیٹرنز کی پیشگوئی میں گزشتہ سال بھی بہترین کارکردگی دکھائی تھی اور اس سال بھی پیشگوئی درست ثابت ہوئی اور ہریکین میلسا واقعی تباہ کن طاقت کے ساتھ جمیکا سے ٹکرایا۔

سینٹر کے سابق ماہر مائیکل لوری کے مطابق یہ ماڈل روایتی فزکس بیسڈ موسمیاتی ماڈلز کے مقابلے میں بہت تیزی سے کام کرتے ہیں اور کم کمپیوٹنگ پاور استعمال ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: گوگل کے نئے اے آئی ماڈل نے ویڈیو جنریشن میں انقلاب برپا کردیا

انہوں نے مزید کہا کہ اس ہریکین سیزن نے ثابت کیا ہے کہ نئے اے آئی ماڈلز نہ صرف مقابلہ کر رہے ہیں بلکہ کئی صورتوں میں روایتی ماڈلز سے زیادہ درست بھی ہیں۔

گوگل ڈیپ مائنڈ ایک برطانوی امریکی اے آئی ریسرچ لیبارٹری ہے جو سنہ 2010 میں قائم ہوئی اور اب الفابیٹ انکارپوریٹڈ کی ذیلی کمپنی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: جیمنی پرو: گوگل کی پاکستانی طلبہ کو شاندار مفت پیشکش

محققین کے مطابق مصنوعی ذہانت انسانیت کی قیمتی ترین ایجادات میں سے ایک ثابت ہو سکتی ہے اور ڈیپ مائنڈ کا مقصد ایسے سیکھنے والے عمومی الگورتھمز تیار کرنا ہے جو ٹیکنالوجی کو انسانوں کے لیے زیادہ مفید بنا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مودی کے ناک رگڑنے کے بعد، ٹرمپ نے انڈیا کے لیے ٹیرف 18 فیصد کردیا

’بیوی زندہ ہے مگر نادرا نے مردہ قرار دے دیا‘، شہری وزیر داخلہ محسن نقوی کے سامنے پھٹ پڑا

صدر طیب اردغان کی جانب سے عمران خان کو ترکیہ آنے کی پیشکش کیے جانے کا انکشاف

قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف پہلے سرکاری دورے پر آج اسلام آباد پہنچیں گے

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا قبائل کے ہمراہ اسلام آباد مارچ کا اعلان، مقصد کیا ہے؟

ویڈیو

دریائے راوی کی زمین پر بننے والے رہائشی منصوبے ختم کیے جائیں، راوی بچاؤ تحریک کا مطالبہ

لاہور میں بسنت کی تیاریاں جاری، پتنگوں سے پہلے ان کی قیمتیں آسمان پر

8 فروری: نوجوان بسنت منائیں گے یا ہڑتال کریں گے؟

کالم / تجزیہ

حادثے سے بڑا سانحہ

اگر جیفری ایپسٹین مسلمان ہوتا؟

بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ رو رہے تھے