ٹرمپ کا تمام تیسری دنیا کے ممالک سے امریکا ہجرت روکنے کا اعلان

جمعہ 28 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ تمام تیسری دنیا کے ممالک سے ہجرت کو مستقل طور پر معطل کر دے گی۔

یہ اعلان انہوں نے وائٹ ہاؤس کے قریب ہونے والے اس حملے کے بعد کیا جس کا الزام انہوں نے بائیڈن دور کی امیگریشن اسکریننگ کی ناکامیوں پر لگایا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا: افغان کمیونٹی میں غیریقینی صورتحال، ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں نے مشکلات بڑھا دیں

صدرٹرمپ نے کسی ملک کا نام نہیں لیا اور نہ یہ واضح کیا کہ وہ کن ممالک کو ’تیسری دنیا‘ قرار دے رہے ہیں یا ’مستقل معطلی‘ سے کیا مراد ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس فیصلے کا اطلاق سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں منظور ہونے والے کیسز پر بھی ہوگا۔

ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ وہ تمام تیسری دنیا کے ممالک سے ہجرت کو مستقل طور پر روکے رکھیں گے تاکہ امریکی نظام مکمل طور پر بحال ہو سکے۔

مزید پڑھیں:افغان شہری کی فائرنگ سے زخمی خاتون نیشنل گارڈ ہلاک، غیرقانونی تارکین وطن امریکا کیلیے خطرہ بنتے جارہے ہیں، ٹرمپ

’بائیڈن کے دور میں ہونے والی تمام غیرقانونی منظوریوں کا خاتمہ کیا جا سکے، جن میں وہ بھی شامل ہیں جن پر ‘سلیپی جو بائیڈن’ کے آٹو پین کے دستخط تھےاور ہر اس شخص کو ملک بدر کیا جا سکے جو امریکا کے لیے اثاثہ نہ ہو۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ ’غیر شہریوں‘ کے تمام وفاقی فوائد اور سبسڈیز ختم کر دیں گے اور ایسے تارکینِ وطن کی شہریت منسوخ کریں گے جو داخلی امن کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے ایسے تمام غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کیا جو ریاست پر بوجھ ہوں، سیکیورٹی خطرہ ہوں یا مغربی تہذیب سے ہم آہنگ نہ ہوں۔

ٹرمپ کے یہ بیانات اس واقعے کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں ایک نیشنل گارڈ اہلکار وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ میں ہلاک ہوگئی تھیں۔ تفتیش کاروں کے مطابق حملہ ایک افغان شہری نے کیا۔

مزید پڑھیں: وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، امریکا نے افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستیں معطل کر دیں

اس سے قبل محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے حکام نے بتایا کہ ٹرمپ نے بائیڈن دور میں منظور ہونے والے پناہ کے کیسز اور 19 ممالک کے شہریوں کو جاری کیے گئے گرین کارڈز کا وسیع جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔

امریکی حکومتی ریکارڈ کے مطابق مبینہ حملہ آور کو اس سال ٹرمپ کے دور میں اسائلم منظور کیا گیا تھا۔

29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال 2021 میں امریکا آیا تھا، جو بائیڈن انتظامیہ کے اس ری سیٹلمنٹ پروگرام کے تحت قائم ہوا تھا جو اگست 2021 میں امریکی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان کی تیزی سے بدلتی صورتحال کے نتیجے میں بنایا گیا تھا۔

اس اعلان سے قبل ایک الگ پوسٹ میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ افغانستان سے ’ہولناک‘ فضائی انخلا کے دوران ’لاکھوں افراد بغیر کسی جانچ پڑتال اور نگرانی کے امریکا میں داخل ہوئے‘۔

مزید پڑھیں: امریکا نے میانمار کے شہریوں کے لیے عارضی قانونی اسٹیٹس ختم کر دیا

یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے بدھ کے روز افغان شہریوں سے متعلق تمام امیگریشن درخواستوں پر غیر معینہ مدت کے لیے کارروائی روک دی۔

ٹرمپ نے کہا تھاکہ ان اہداف کا مقصد غیر قانونی اور تخریبی آبادی میں بڑی کمی لانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دلہے نے جہیز میں لاکھوں روپے لینے سے انکار کرکے باراتیوں کے دل جیت لیے

یوٹیوبر ڈکی بھائی رہائی کے بعد اب کیا کریں گے؟ اہلیہ عروب جتوئی کا سوشل میڈیا پر اہم بیان

پولیس تشدد اور ماورائے عدالت قتل ہرگز جائز نہیں، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ: آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری

عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کے بھارتی میڈیا چینلز پر انٹرویوز، مقصد کیا ہے؟

ویڈیو

فٹ پاتھ پر پینٹنگ بیچتا ہوا نوجوان

عمران خان سے ملاقات کا معمہ، حکومت کی خوف زدگی، سہیل آفریدی کو جھٹکا اور نور مقدم کیس میں نیا موڑ

پہلے ٹوئٹر پر سخت پوسٹ کرنا چھوڑو، پھر ملاقات، عمران خان کی صحت سے متعلق فیک نیوز، سہیل آفریدی بھی ناکام

کالم / تجزیہ

ڈیجیٹل تشدد، ایک انتباہ

نورمقدم کیس: جسٹس باقرنجفی کے فیصلے پر ردعمل کیوں ؟

ہر دلعزیز محمد عزیز