وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ جیل میں ملاقاتوں کے لیے واضح قانون اور ضوابط موجود ہیں اور اس پر عمل ہونا لازمی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پی ٹی آئی قانون کی بجائے دھرنے دینے کا فیصلہ کرتی ہے تو حکومت اس سے بلیک میل نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقاتوں میں سیاسی گفتگو نہیں ہونی چاہیے، رانا ثنااللہ
نجی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات جیل مینوئل کے مطابق ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اب اگر حکومت کے پاس پی ٹی آئی کی جانب سے 6،6 مختلف فہرستیں آئیں گی تو ان میں سے کون سی منظور کی جائے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر ملاقات کرنا چاہتے ہیں تو ایک شخص کو نامزد کریں جو درست اور قانونی طریقے سے فہرست دے تاکہ جیل کے باہر امن و امان کے مسائل پیدا نہ ہوں۔
’ملاقات پر غیر اعلانیہ پابندی نہیں، اعلانیہ ہی ہے‘
عطااللہ تارڑ نے واضح کیا کہ جیل میں ملاقات پر کوئی غیر اعلانیہ پابندی نہیں ہے بلکہ اعلانیہ پابندی ہے اور وہ اس لیے کہ پی ٹی آئی قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کر رہی اور جیل کے باہر امن و امان کے مسائل پیدا کرتی ہے۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل میں عمران خان کی صحت، ملاقاتوں اور سہولیات سے متعلق تفصیلات سامنے آ گئیں
انہوں نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کریں گے تو ملاقات نہیں ہوگی۔
وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ سہیل آفریدی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر جمع ہونے اور اڈیالہ جیل جانے کا اعلان کیا ہے لیکن اس کے باوجود ان کے ساتھ لوگ نہیں ہوں گے۔
مزید پڑھیے: پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کو سیاسی چال کے طور پر استعمال کررہی ہے، طلال چوہدری
تارڑ نے پی ٹی آئی کی خاتون رہنما کی جانب سے بھارت اور افغانستان کے میڈیا کو ملاقات کے حوالے سے اپ ڈیٹ دینے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ حکومت کسی طرح کی بلیک میلنگ کو قبول نہیں کرے گی۔














