وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل نے کہا ہے کہ عمران خان سے جیل میں پارٹی رہنماؤں اور فیملی ممبرز کی 870 ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ کسی کی خواہشات پر ملاقات نہیں کروائی جا سکتی، جیل مینوئل کے مطابق ملاقاتیں ہوتی ہیں، جیل حکام ہی اس حوالے سے فیصلہ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دھرنوں سے بلیک میل نہیں ہونگے، پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے قانونی راستہ اپنائے،عطا تارڑ
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر عمران خان کی صحت کے حوالے سے باتیں کی جا رہی ہیں، ان کا سورس آف انفارمیشن بھارتی چینل اور بھارت اور افغانستان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیں، جنہوں نے اپنے ذرائع ڈکلیئر نہیں کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ریکارڈ موجود ہے کہ عمران خان سے اب تک جیل میں 870 ملاقاتیں ہو چکی ہیں، ان کے طبی معائنے کے لیے کون سا ڈاکٹر کب کب جیل گیا، یہ ریکارڈ بھی موجود ہے، ان کو جیل میں تمام سہولیات دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقاتوں میں نہ سیاسی گفتگو ہو اور نہ ہی باہر آکر پریس کانفرنس ہو، رانا ثنا اللہ
بیرسٹر عقیل نے کہا کہ عمران خان عام قیدی نہیں ہیں، وہ سپیریئر کیٹیگری کے قیدی ہیں۔ جیل میں ملاقاتوں میں سیاسی گفتگو کی اجازت نہیں، وکلا کی ملاقات ہو سکتی ہے اور فیملی ممبرز کی ملاقات بھی ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قیدی سے فیملی ملاقات میں سیاست پر بات نہیں ہو سکتی۔ ماضی میں نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی سے بھی سیاسی ملاقاتیں نہیں ہوتی تھیں۔














