آسام میں بوڈو طلبہ نے ریاستی حکومت کے 6 بڑی کمیونیٹیز کو شیڈیولڈ ٹرائب (ST) کا درجہ دینے کے فیصلے کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ ہزاروں طلبہ نے بوڈولینڈ ٹیریٹوریل کونسل (BTC) کے سیکریٹریٹ پر زبردستی دھاوا بولتے ہوئے اسمبلی ہال میں توڑ پھوڑ کی۔
یہ بھی پڑھیں:پہلگام حملے کو بھارت کی چال قرار دینے پر آسام کے رکن اسمبلی گرفتار
مظاہرین نے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ بوڈو کمیونٹی کے حقوق، سیاسی نمائندگی اور تعلیمی و اقتصادی مراعات کو کمزور کرنے کی بھارتی سازش ہے۔ کیونکہ یہ بوڈوز کے ریزرویشن فوائد اور نمائندگی کو متاثر کرے گا۔
#WATCH | Bodoland University students on Saturday vandalised the Bodoland Territorial Council (BTC) secretariat assembly hall in protest against the Assam cabinet’s approval of a Group of Ministers (GoM) report recommending Scheduled Tribe (ST) status for six additional… pic.twitter.com/pVVVJDDyPQ
— NORTHEAST TODAY (@NortheastToday) November 29, 2025
طلبہ احتجاج کے بعد پولیس نے کوکراجہار میں بڑے پیمانے پر سیکیورٹی تعینات کر دی ہے۔ مظاہرے شدت اختیار کر سکتے ہیں کیونکہ آل بوڈو اسٹوڈنٹس یونین (ABSU) اور دیگر قبائلی تنظیمیں بھی احتجاج میں شامل ہونے کا عندیہ دے چکی ہیں۔

اس سے قبل طلبہ نے یونیورسٹی کیمپس میں احتجاج کرتے ہوئے تیسرے سمسٹر کے امتحانات کا بائیکاٹ کیا اور ٹارچ لائٹ واک بھی نکالی۔ یہ مظاہرہ بھارت کی غیر منصفانہ پالیسی اور بڈو کمیونٹی کے مفادات پر دھوکہ دہی کے خلاف ہے۔
’بوڈو‘ کون ہیں
بھارتی جغرافیہ میں بڈو یا بوڈو لینڈ سے مراد آسام کے شمال مغربی حصے میں آباد بڈو قبائل اور ان کے علاقے سے ہے۔ بوڈو لوگ آسام کی سب سے بڑی قبائلی کمیونٹی ہیں اور ان کی اپنی زبان بوڈو ہے جو تبتو-برمی زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔

بوڈو لوگ اپنی ثقافت، روایات اور قبائلی شناخت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ بوڈو لینڈ ایک خود مختار قبائلی علاقہ ہے جو بوڈو ٹیریٹوریل کونسل کے تحت بنایا گیا تاکہ بڈو قبائل کو سیاسی، تعلیمی اور اقتصادی حقوق دیے جائیں اور ان کی ثقافت کی حفاظت ہو سکے۔
یہ علاقہ کوکراجہار، بوسو، تامول اور دیگر اضلاع میں پھیلا ہوا ہے جہاں بڈو لوگ اکثریت میں آباد ہیں۔













