گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ جب تک صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت ایک پیج پر نہیں ہوں گی، صوبے میں امن لانا مشکل ہے، صوبے میں امن اور خوشحالی کے لیے صوبے کو وفاق کے ساتھ مل کرکام کرنا پڑے گا، آئندہ بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعظم بنانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ صوبے کے مسائل حل ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو عہدے سے ہٹایا جارہا ہے؟
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت لوگوں کو نوکریاں دیتی ہے، جب جاتی ہے تو نئی حکومت جو آتی ہے وہ سیاسی انتقام لیتی ہے اور لوگوں کو نوکریوں سے فارغ کردیتی ہے، پھر جب ہماری حکومت آتی ہے تو ہم نکالے گئے ملازمین کو بحال کرتے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ فرض کریں حکومت ایک لاکھ ملازمین کو بحال کرتی ہے تو یہ ایک لاکھ نئی ملازمتیں بھی دے سکتی تھیں، لیکن ہم نے نشانہ بنائے گئے افراد کو دوبارہ منتخب کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: جو آئین اور ریاست کو نہیں مانتے، ان سے مذاکرات ممکن نہیں، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی
انہوں نے پشاور میں اسپتال کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسپتال اس زمین پر بنایا جائے گا جو حاصل کی گئی تھی، اور خیبر بختونخوا کے عوام کو علاج کی سہولت فراہم ہوگی۔ ان کے بقول اس منصوبے سے تمام سیاسی جماعتیں مستفید ہوں گی اور پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرے گی۔
انہوں نے سرحدی سیکیورٹی اور داخلی تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی سرحد پر حالات نازک ہیں اور ٹی ٹی پی کے خلاف لڑائی جاری ہے۔ انہوں نے پولیس ٹریننگ اسکولز، کالج اور ایف سی ہیڈکوارٹرز کی اہمیت اجاگر کی اور کہا کہ دشمن کی ناکامی نے ملک کو بڑے نقصان سے بچایا۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی نے اچھے کام کیے تو ہم حمایت کریں گے، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے صوبائی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان یکجہتی ضروری ہے۔ امن قائم ہونے سے صوبے میں ترقی، سیاحت اور معدنی وسائل کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے پارٹی کے سینیئر اور جونئر رہنماؤں کو مشورہ دیا کہ چھوٹے تنازعات ختم کرکے پارٹی کو مضبوط بنایا جائے، آئندہ انتخابات میں پارٹی کے چیئرمین کو وزیر اعظم بنانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ ملک اور صوبے کے مسائل حل ہوں۔














