’میرے بچے کو ڈھونڈنے میں مدد کریں‘، کراچی میں گٹر میں گرنے والے بچے کی ماں کی اداروں سے اپیل

پیر 1 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی میں کھلے گٹروں کے باعث حادثات کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ گلشنِ اقبال نیپا چورنگی کے قریب اتوار کی رات پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں 3 سالہ بچہ بغیر ڈھکن کے مین ہول میں گر کر لاپتا ہوگیا۔ بچے کی شناخت ابراہیم ولد نبیل کے نام سے ہوئی ہے جو اہلِ خانہ کے ساتھ خریداری کے لیے آیا تھا۔ شاپنگ کے بعد باہر نکلتے ہی بچہ ہاتھ چھڑا کر بھاگا اور کھلے مین ہول میں جا گرا۔

ریسکیو اداروں نے رات بھر تلاش کا سلسلہ جاری رکھا تاہم بچے کا سراغ تاحال نہیں مل سکا۔ ریسکیو حکام کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کھدائی کے لیے درکار مشینری موجود نہیں تھی اور نہ ہی کسی سرکاری ادارے نے تعاون فراہم کیا۔ بعد ازاں علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہیوی مشینری منگوا کر کھدائی شروع کر دی۔ واقعے کے بعد بچے کی والدہ صدمے سے نڈھال ہے اور دہائی دے رہی ہے کہ ’اللہ کے واسطے میرا بچہ لا دو، میں اس کے بغیر مر جاؤں گی‘۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی کی خوش قسمت بچی جو گٹر سے زندہ واپس نکل آئی

افسوسناک حادثے نے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ مشتعل شہریوں نے نیپا چورنگی کے اطراف سڑکیں بلاک کر دیں، ٹائر جلا کر احتجاج کیا اور حسن اسکوائر سمیت جامعہ کراچی جانے والے راستے بھی بند ہو گئے، جس کے باعث ٹریفک کی صورتحال شدید متاثر رہی۔

لاپتا بچے کی والدہ نے میڈیا پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اداروں سے درخواست کرتی ہوں کہ بچے کو تلاش کرنے میں ہماری مدد کریں، ہمارا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں نہ ہی کسی کے خلاف کچھ کہہ رہے ہیں۔ میرا بچہ کس حال میں ہے یہ ہمیں بھی نہیں معلوم۔ گورنر اور میئر میرے بچے کو تلاش کروائیں، اپنا عملہ، ٹیم اور مشینری بھیجیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بچے کی تلاش ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت کی، مشینوں میں 15 ہزار روپے کا ڈیزل تک ہم نے خود ڈالا، انتظامیہ نے اس جگہ بجلی تک بند کردی۔
بچے کے والد نے بھی کہا کہ مشین ہم خود لے کر آئے انتظامیہ نے کوئی مدد نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں: ’کراچی کو کس حال میں پہنچا دیا‘ گٹر میں گرنے والی خاتون کی ویڈیو وائرل

سندھ حکومت نے واقعے کا نوٹس لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ مین ہول پر ڈھکن کیوں موجود نہیں تھا، اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ کراچی میں کھلے مین ہولز کے باعث حادثات معمول بن چکے ہیں۔ گزشتہ ماہ سرجانی ٹاؤن میں کھلے گٹر میں گر کر 3 سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا تھا، جبکہ جولائی 2024 میں ملیر میمن گوٹھ کے علاقے غفور بستی میں 5 بچے گٹر میں گر گئے تھے جن میں سے 2 جان کی بازی ہار گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: چلڈرن اسپتال انتظامیہ کی غفلت، بچہ مین ہول میں گر کر جاں بحق

مئی 2024 میں یوسی 119 مکہ مسجد کے سامنے ایک بزرگ خاتون کھلے گٹر میں گری تھیں جنہیں علاقہ مکینوں نے محفوظ نکال لیا تھا، اور واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل کا باعث بنی تھی۔

شہرِ قائد میں کھلے مین ہولز کے بڑھتے ہوئے واقعات شہریوں کی پریشانی اور حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پریانکا چوپڑا ملک چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟ بالی ووڈ پروڈیوسر کے انکشافات

بھاٹی گیٹ سانحہ: وزیر اطلاعات پنجاب سمیت افسران کیخلاف مقدمے کی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر

تیراہ آپریشن: پاکستان کے دہشتگرد مخالف اقدامات کے حقائق عوام کے سامنے

سپریم کورٹ: 40 تولہ حق مہر پر اعتراض، چیف جسٹس کا شوہر کو ادائیگی کا مشورہ

اسلام آباد میں نئے کنونشن سینٹر کی تعمیر، محسن نقوی کا مجوزہ جگہ کا دورہ

ویڈیو

سخت شرائط کے باوجود اسٹینڈ بائی پروگرام حاصل کیا اور پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالا، شہباز شریف

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

 خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے