بھارت کی ریاست ہریانہ کے ضلع روہتک سے تعلق رکھنے والا 26 سالہ قومی سطح کے باڈی بلڈر اور پیرا ایتھلیٹ روہت دھنکھڑ کو شادی کی تقریب میں خواتین کو ہراساں کرنے پر اعتراض کرنے کی پاداش میں حملہ کر کے قتل کر دیا گیا۔ روہت ہفتہ کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
واقعہ جمعہ کی رات پیش آیا جب روہت اپنے دوست جتن کے ہمراہ بھِیوانی میں ایک شادی کی تقریب میں شریک تھے۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ تیگاڈانہ گاؤں سے آئی بارات کے چند افراد نے تقریب کے دوران خواتین سے بدتمیزی کی، جس پر روہت نے انہیں سختی سے منع کیا۔ مختصر تلخ کلامی کے بعد وہ افراد وہاں سے ہٹ گئے لیکن معاملہ یہیں ختم نہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا انفلوئنسر کی پُراسرار موت، پولیس نے تحقیقات میں کیا انکشاف کیا؟
تقریب کے بعد جب روہت اور جتن واپس لوٹ رہے تھے انہیں ریلوے کراسنگ پر بند پھاٹک کے باعث رکنا پڑا۔ اسی دوران مبینہ طور پر تقریباً بیس حملہ آور ڈنڈوں، لاٹھیوں اور دیگر ہتھیاروں سے لیس ہو کر پہنچے اور دونوں دوستوں کو گھیر کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ جتن کسی طرح وہاں سے جان بچا کر نکلنے میں کامیاب ہو گئے مگر روہت کو حملہ آوروں نے بری طرح پیٹا اور شدید زخمی حالت میں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
جتن بعد میں مدد کے ساتھ واپس آئے اور روہت کو مقامی اسپتال منتقل کیا جہاں سے انہیں حالت نازک ہونے پر پی جی آئی ایم ایس روہتک ریفر کر دیا گیا۔ طبی عملے کی مسلسل کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے اور ہفتہ کی صبح انتقال کر گئے۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا میں کینیڈین شہری کا قتل، انڈیا نے بڑی غلطی کردی، جسٹن ٹروڈو
اطلاع ملنے پر بھِیوانی پولیس اسپتال پہنچی اور اہلِ خانہ کی شکایت پر پوسٹ مارٹم کروایا گیا۔ پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔
روہت کے برادر نسبتی راوی خاصا اور چچا ستیش دھنکڑ نے قتل کو ’سوچے سمجھے منصوبے کے تحت‘ قرار دیتے ہوئے ملزمان کے لیے سخت ترین سزا کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق، ’روہت نے خواتین کی عزت کے لیے آواز بلند کی اور اپنی جان قربان کر دی‘۔
یہ بھی پڑھیں: کچلاک میں نوجوان حماد کاکڑ کا قتل، کیا قاتل اہلیہ تھی؟
روہت دھنکھڑ ایک پیشہ ور باڈی بلڈر تھے اور روہتک کے جِم خانہ کلب میں ممبران کو تربیت دیتے تھے۔ 2018 میں انہوں نے پیرا اولمپک کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے دہلی میں منعقدہ نیشنل پاور لفٹنگ چیمپئن شپ میں سونے کا تمغہ جیتا تھا۔
دھنکھڑ کی دائیں ٹانگ میں معذوری تھی اور انہوں نے اسی سال بین الاقوامی سطح پر بھی دو طلائی تمغے جیتے تھے اور اس وقت کے وزیراعلیٰ منوہر لال کھٹر نے یومِ آزادی کی تقریب میں انہیں اعزاز سے نوازا تھا۔












