پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی لائسنسنگ کا آغاز کردیا۔
یہ لائسنسنگ اب بحال شدہ کلاس ویلیو ایڈڈ سروسز ریجیم کے تحت کی جا رہی ہے، جس کا مقصد ملک میں محفوظ اور مجاز وی پی این سروسز کی فراہمی کو منظم کرنا اور قومی قوانین و ڈیٹا سیکیورٹی کے معیار کو یقینی بنانا ہے۔ اس حوالے سے پی ٹی اے نے متعدد کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے ہیں۔
(Cont’d): Users may now conveniently obtain VPN services directly from these licensed providers without the need to approach PTA for separate VPN registration of their IP addresses or mobile numbers. This measure is aimed at promoting regulatory facilitation, user convenience,… pic.twitter.com/EGGa6c2Kj6
— PTA (@PTAofficialpk) November 13, 2025
ان لائسنس یافتہ کمپنیوں کو قانونی اور مجاز مقاصد کے پیش نظر وی پی این سروسز فراہم کرنے کی اجازت ہے۔
اب صارفین اپنے آئی پی ایڈریسز یا موبائل نمبرز کی الگ سے پی ٹی اے میں رجسٹریشن کروائے بغیر براہ راست ان لائسنس یافتہ وی پی این فراہم کنندگان کی خدمات حاصل کر سکیں گے۔
یہ اقدام عوام کی آسانی، ریگولیٹری سہولت اور پاکستان کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم میں سائبر سیکیورٹی کے مزید استحکام کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔
واضح رہے کہ سائبر سیکیورٹی کے ماہرین نے پاکستان میں فری اور غیر رجسٹرڈ وی پی اینز پر پابندی کو ناگزیر قرار دے دیا۔
ماہرین کے مطابق فری اور غیر رجسٹرڈ وی پی اینز ملک میں بڑھتے ہوئے سائبر سیکیورٹی خدشات کی ایک بڑی وجہ بن چکے ہیں۔ ان وی پی اینز کے ذریعے شہریوں کا ڈیٹا ہیکنگ، چوری، غیر ملکی نگرانی اور سائبر جرائم کے خطرات سے دوچار ہو جاتا ہے، جس کے باعث محفوظ ڈیجیٹل پاکستان کے لیے ان پر مکمل پابندی وقت کی اہم ضرورت قرار دی جا رہی ہے۔














