پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منفی رجحان دیکھنے میں آیا جہاں بدھ کو انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1,300 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
دن 12 بج کر 30 منٹ پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,329.05 پوائنٹس یعنی 0.79 فیصد کمی کے ساتھ 166,313.22 پوائنٹس پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
اہم شعبوں میں فروخت کے دباؤ نے مارکیٹ کو متاثر کیا، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، او ایم سیز اور پاور جنریشن شامل ہیں۔
Market is down at midday 👇
⏳ KSE 100 is negative by -1071.76 points (-0.64%) at midday trading. Index is at 166,570.52 and volume so far is 159.41 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/VH018TfiWP— Investify Pakistan (@investifypk) December 3, 2025
انڈیکس میں زیادہ وزن رکھنے والے اسٹاکس جیسے حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، پاکستان اسٹیٹ آئل، ایس این جی پی ایل، حبیب بینک لمیٹڈ، ایم ای بی ایل اور نیشنل بینک آف پاکستان منفی زون میں ٹریڈ ہوئے۔
منگل کو بھی پی ایس ایکس میں مجموعی طور پر منفی ٹریڈنگ سیشن دیکھا گیا تھا، جہاں بڑے انڈیکسز، شعبہ جاتی بینچ مارکس اور فیوچر کونٹریکٹس مسلسل منافع کے حصول کے رجحان کے باعث نیچے بند ہوئے۔ کے ایس ای-100 انڈیکس 419.92 پوائنٹس کمی کے بعد 167,642.28 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، یعنی 0.25 فیصد کی کمی۔
مزید پڑھیں: ٹیکس آمدن میں اضافہ ایف بی آر اصلاحات کا نتیجہ، غیررسمی معیشت کا خاتمہ کریں گے، وزیراعظم شہباز شریف
عالمی سطح پر، ایشیائی مارکیٹس بدھ کو نسبتاً مستحکم رہیں، کیونکہ عالمی بونڈ مارکیٹس اور کرپٹو کرنسیوں میں گزشتہ روز آنے والی عارضی گراوٹ کے بعد وال اسٹریٹ کی واپسی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا۔
بِٹ کوائن دوبارہ 90,000 ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا جبکہ نیسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 کے فیوچر میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا۔

ایم ایس سی آئی کے ایشیا پیسفک انڈیکس میں 0.3 فیصد اضافہ جبکہ جاپان کا نکی 0.8 فیصد بڑھا۔
ہفتے کے آغاز میں جاپان میں شرح سود میں ممکنہ اضافے کی توقعات کے باعث گلوبل بونڈ مارکیٹس میں شدید فروخت اور کرپٹو میں گراوٹ نے مارکیٹس کو متاثر کیا تھا، تاہم بدھ کے روز صورتحال میں بہتری دیکھی گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بڑے نئے محرک کی عدم موجودگی میں اب سرمایہ کاروں کی توجہ آنے والے ہفتے فیڈرل ریزرو کی متوقع شرح سود میں کمی کی جانب مبذول ہو گئی ہے، جس نے مجموعی مارکیٹ جذبات کو بہتر بنایا ہے۔













