سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں مبینہ طور پر ایک سرکاری عہدے دار کو عوامی مقام پر اسلحہ لہراتے اور فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو جسٹس کے کے آغا کی ہے۔
ویڈیو سامنے آنے کے بعد مختلف حلقوں میں سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ محمد فیصل نامی صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ وفاقی آئینی عدالت کے جج کےکےآغا ہیں جو عوام میں اسلحہ لہراتے ہوئے فائرنگ کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ کتنا بے قانون ملک ہوگا جہاں جج کھلےعام غیر قانونی حرکات کرتے ہیں۔
This is the Federal Constitutional Court judge, Mr. K.K. Agha, who is firing while displaying weapons in public. After that, I don't need to tell you what a lawless country it must be where judges openly display illegal. pic.twitter.com/gBuw5XoOvF
— Muhammed Faisal (@Intl_Mediatior) December 2, 2025
عمران نامی صارف نے کہا کہ یہ وفاقی آئینی عدالت کے جج جناب کے کے آغا ہیں جو کھلے عام فائرنگ کر رہے ہیں اور دوسری طرف کل پنجاب میں 3 ہزار بچوں پر ہیلمٹ نہ پہننے پر پرچے دے کر بند کیا گیا ہے۔
خواتین و حشرات
یہ وفاقی آئینی عدالت کے جج، جناب کے کے آغا ہیں، جو کھلے عام فائرنگ کر رہے ہیں۔
سرزمین بے آئین و قانون
کل پنجاب میں تین ہزار بچوں پر ہیلمٹ نہ پہننے پر پرچے دیکر بند کیا گیا ہے pic.twitter.com/rsKYqCkxV6
— 𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶 (@Lalika79) December 2, 2025
کئی صارفین کے مطابق ویڈیو میں موجود شخص کوئی جج نہیں بلکہ ایک وکیل ہیں۔ سوشل میڈیا صارف شاہد حسین نے نشاندہی کی کہ کچھ افراد اس ویڈیو کو غلط طور پر جسٹس کے کے آغا سے منسوب کرکے پھیلا رہے ہیں، حالانکہ یہ ویڈیو ایک وکیل ہے جو 29 نومبر کو سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں کامیابی کی خوشی میں فائرنگ کر رہا تھا۔ ان کے مطابق یہ ویڈیو سندھ ہائیکورٹ کے احاطے میں ریکارڈ کی گئی تھی اور اس کا جسٹس کے کے آغا سے کوئی تعلق نہیں۔
کچھ لوگ اس ویڈیو کو جسٹس کے کے آغا سے منسوب کرکے سوشل میڈیا ہر وائرل کررہے ہیں حالانکہ یہ ویڈیو 29 نومبر کو ہونے والے سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات جینے کی خوشی ایک وکیل صاحب ہیں جو سندھ ہائیکورٹ کے احاطے میں اس دن فائرنگ کررہے تھے
ویڈیو میں فائرنگ کرنے والے… pic.twitter.com/CirqUk7pLd— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) December 2, 2025
چند صارفین کا کہنا تھا کہ اگر یہ جسٹس کے کے نہیں ہیں تو ویڈیو میں ’کے کے‘ کے نعرے کیوں لگائے جا رہے ہیں اور چند صارفین نے کہا کہ اگر ویڈیو میں موجود فرد واقعی سرکاری عہدہ رکھتا ہے تو یہ طرزِ عمل نہ صرف عوامی تحفظ کے لیے خطرہ ہے بلکہ ریاستی اداروں کی ساکھ کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔














