حکومت پاکستان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں (WFP،UNICEF، UNFPA) کی رسمی درخواستوں کے جواب میں محدود اور مخصوص وقت کے لیے انسانی ہمدردی کا استثنا منظور کرتے ہوئے پاک افغان سرحد مشروط کھولی جائے گی تاکہ کنٹینرز کی افغانستان تک نقل و حمل ممکن ہوسکے۔ تاہم واضح کیا گیا ہے کہ سرحد کو عام تجارت یا ہجرت کے لیے نہیں کھولا گیا اور نہ ہی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو بحال کیا گیا ہے۔
مشروط اجازت کو 3 مراحل میں نافذ کیا جائے گا۔ پہلے اشیائے خور و نوش، پھر ادویات اور طبی سامان، اور آخر میں صحت و تعلیم سے متعلق دیگر ضروری اشیا بھجوائی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: پاک افغان سرحد کی بندش سے افغانستان کو کتنا تجارتی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے؟
اس اجازت کو 3 مراحل میں نافذ کیا جائے گا۔ پہلے اشیائے خور و نوش، پھر ادویات اور طبی سامان، اور آخر میں صحت و تعلیم سے متعلق دیگر ضروری اشیا بھجوائی جائیں گی۔
یہ سہولت صرف اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے مخصوص سامان اور محدود وقت کے لیے ہے۔ اسے وزارتِ تجارت اور وزارتِ خارجہ کے ذریعے پروسیس کیا جائے گا۔ نجی یا تجارتی ٹرانزٹ کے لیے یہ اجازت نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: پاک افغان تناؤ، جے شنکر کے بیان سے امید باندھیں؟
پاکستان کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ دوطرفہ تجارت، تجارتی ٹرانزٹ اور معمول کی سرحدی نقل و حمل پر تمام پابندیاں برقرار ہیں۔ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ مسئلہ افغان طالبان کے پالیسیوں سے ہے، نہ کہ افغان عوام سے، اور یہ فیصلہ صرف انسانی ہمدردی کے مقصد سے کیا گیا ہے، جس کا مطلب سرحد کو تجارتی بنیادوں پر کھولنا یا پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔













