ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا میں پکڑا گیا لقمان خان پاکستانی شہری نہیں، انکوائری کے مطابق لقمان خان افغان شہری ہے۔
ترجمان طاہر اندرابی نے اپنے بیان میں کہا کہ لقمان خان بطور مہاجر پاکستان میں کچھ عرصہ رہا۔ افغان شہری نے بیشتر زندگی امریکا میں گزاری ہے۔

واضح رہے کہ امریکا میں لقمان شاہ کی گرفتای کے بعد افغان اور بھارتی میڈیا نے پروپیگنڈا کیا تھا کہ لقمان شاہ پاکستانی شہری ہے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق گرفتار شدہ نوجوان 25 سالہ لقمان خان کو نیوکاسل، ڈیلویئر میں رات کے وقت ایک گاڑی کی تلاشی کے دوران حراست میں لیا گیا۔ اس کے قبضے سے ہاتھ میں گن، اضافی میگزینز اور ایک نوٹ بک برآمد ہوئی، جس میں ریاستی یونیورسٹی کے پولیس اسٹیشن کا نقشہ موجود تھا جہاں وہ تعلیم حاصل کر رہا ہے۔
False Claim 🚨 Luqman Khan was born in Afghanistan, later lived with his family in a refugee camp in Pakistan, and eventually migrated to the United States. He holds dual Afghan and American citizenship. The U.S. Justice Department has not issued any statement identifying him as… https://t.co/qztTHjnUH0 pic.twitter.com/FrbaAOd9Ue
— Zara (@ZaraWrites) December 3, 2025
نوٹ بک میں لقمان خان نے ہتھیار کے استعمال کے طریقے بھی درج کیے تھے اور پولیس پر حملے کے منصوبے بنائے ہوئے تھے۔ اٹارنی جنرل جولیان میری کے مطابق نوٹ بک میں ایک یونیورسٹی پولیس افسر کا نام بھی درج تھا اور پولیس اسٹیشن کی عمارت کا خاکہ، دروازے اور داخلے و اخراج کے مقامات کے ساتھ بنایا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: امریکا: ڈلاس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ پر فائرنگ، 2 افراد ہلاک
رپورٹس کے مطابق گرفتار طالبعلم نے نوٹ بک میں ’شہادت‘ کے موضوع پر تحریر بھی لکھی تھی اور ابتدائی تحقیقات میں اس نے کہا کہ شہید ہونا ایک اعلیٰ ترین کارنامہ ہے جو کوئی کوئی انجام دے سکتا ہے۔
گرفتاری کے بعد پولیس نے لقمان خان کے گھر سے ایک سیمی آٹومیٹک ہتھیار بھی برآمد کیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا میں مسلح حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش پائی جا رہی ہے۔












