اسلام آباد کے حساس ترین مقام سیکریٹریٹ چوک میں تیز رفتار لینڈ کروزر کی ٹکر سے ایک اور ہولناک حادثہ پیش آیا ہے، حادثے کے بعد شہری خوفزدہ ہوگئے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق سفید رنگ کی لینڈ کروزر اچانک بے قابو ہوئی اور سامنے کھڑی گاڑی سے جا ٹکرائی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو سیل کردیا اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
مسلسل حادثات نے دارالحکومت کے شہریوں میں خوف اور غم و غصہ بڑھا دیا
گزشتہ چند روز سے لینڈ کروزرز کی تیز رفتاری اور قانون شکنی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جس نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد آصف کے 16 سالہ بیٹے کی مبینہ تیز رفتاری کے نتیجے میں ہونے والا حادثہ 2 نوجوان لڑکیوں کی جان لے گیا تھا۔ اس دلخراش واقعے نے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔
اسی طرح ن لیگی سینیٹر ناصر بٹ کے ڈرائیور کی جانب سے تیز رفتار لینڈ کروزر سے 2 موٹرسائیکل سواروں کو کچلنے کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔ واقعے میں دونوں موٹرسائیکل سوار شدید زخمی ہوئے جبکہ پولیس نے گاڑی سے غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد کیا تھا۔
شہریوں کا ردعمل
مسلسل پیش آنے والے واقعات نے شہریوں کو سخت بے چین کردیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کی سڑکیں طاقتور طبقے کی تیز رفتاری کے باعث غیر محفوظ ہوچکی ہیں اور قانون کی گرفت کمزور دکھائی دے رہی ہے۔
پولیس کی کارروائی
پولیس نے سیکریٹریٹ چوک میں ہونے والے تازہ حادثے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ گاڑی اور ڈرائیور کا مکمل ڈیٹا حاصل کیا جا رہا ہے جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی طلب کر لی گئی ہیں۔














