اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت کا عندیہ دے دیا۔
جرمن چانسلر فریڈریک مرز کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وہ اس ماہ کے آخر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، امریکی صدر کے غزہ منصوبے کا دوسرا مرحلہ قریب ہے۔
مزید پڑھیں: غزہ امن منصوبہ: حماس نے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرار داد کو مسترد کردیا
انہوں نے بتایا کہ اس ملاقات میں فلسطینی عسکری گروہ حماس کے غزہ میں اقتدار کے خاتمے اور امن کے ممکنہ مواقع پر بات کی جائے گی۔
امریکی صدر کے منصوبے کے اگلے مراحل پر مذاکرات جاری ہیں، جس میں غزہ میں عارضی ٹیکنوکریٹ فلسطینی حکومت کے قیام کا بھی منصوبہ شامل ہے، جس کی نگرانی ایک بین الاقوامی بورڈ آف پیس کرے گا اور اس کے ساتھ ایک بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کا تعاون ہوگا۔
نیتن یاہو نے کہاکہ میں اس ماہ کے آخر میں بہت اہم بات چیت کروں گا تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ دوسرا مرحلہ مکمل ہو۔
واضح رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد سے تشدد میں کمی آئی ہے لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: اسرائیل غزہ امن معاہدے کے تحت امداد پہنچانے نہیں دے رہا، اقوام متحدہ
جنگ بندی کے آغاز کے بعد حماس نے تمام 20 زندہ یرغمالیوں اور 27 لاشیں واپس کردی ہیں، جس کے بدلے میں قریباً 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہائی ملی، تاہم ایک اسرائیلی یرغمالی کی لاش اب بھی غزہ میں موجود ہے۔














