امریکا نے مزید 31 بنگلہ دیشی شہریوں کو ڈی پورٹ کر دیا جو پیر کی شام ایک خصوصی امریکی فوجی طیارے کے ذریعے ڈھاکا پہنچے۔
یہ بھی پڑھیں: جعلی فٹبال ٹیم جاپان پہنچا دینے کا معاملہ، ڈی پورٹ ہونے والے 22 ’کھلاڑی‘ گرفتار
طیارہ حضرت شاہ جلال بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترا جہاں ایئرپورٹ حکام نے ڈی پورٹییز کو بریک (BRAC) کے حوالے کیا جس نے ہنگامی معاونت اور ٹرانسپورٹ فراہم کی۔
واپس آنے والوں میں زیادہ تر کا تعلق نوکھالی سے ہے جبکہ دیگر کا تعلق سلہٹ، فینی، شریعت پور اور کومیلا سے بتایا گیا ہے۔
کئی ڈی پورٹییز نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں سفر کے دوران تقریباً 60 گھنٹے تک ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں رکھا گیا جو صرف ڈھاکا پہنچنے کے بعد ہی کھولی گئیں۔
رواں سال کے آغاز میں امریکا نے 226 بنگلہ دیشی واپس بھیجے تھے جنہوں نے بھی اسی نوعیت کے سلوک کی شکایات کی تھیں۔
بریک کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر فار مائیگریشن اینڈ یوتھ پلیٹ فارم شریف الحسن کے مطابق گفتگو سے معلوم ہوا کہ ان میں سے کم از کم 16 افراد قانونی طور پر برازیل گئے تھے جنہیں بی ایم ای ٹی (BMET) کی جانب سے کلیئرنس بھی حاصل تھی۔
انہوں نے کہا کہ برازیل سے وہ مبینہ طور پر میکسیکو کے راستے غیرقانونی طور پر امریکا داخل ہونے کی کوشش میں تھے۔ امریکا پہنچ کر انہوں نے رہائش کے لیے درخواستیں دیں لیکن کیس مسترد ہونے پر انہیں ڈی پورٹ کر دیا گیا۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش میں عام انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ اوقات میں اضافہ منظور
حسن نے ڈی پورٹیز کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غیر دستاویزی افراد کو واپس بھیجنا قانونی عمل ہو سکتا ہے لیکن انہیں گھنٹوں ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں رکھنا انسانیت سوز ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برازیل جانے والے بنگلہ دیشی کارکنوں کی بڑی تعداد کو 30 سے 35 لاکھ ٹکا ادا کر کے اسمگلنگ نیٹ ورکس کے ذریعے امریکا بھیجا جا رہا ہے، جہاں پہنچ کر وہ خالی ہاتھ واپس لوٹنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایسے بھرتی ایجنٹس اور منظوری دینے والے اداروں کے خلاف کارروائی کرے اور برازیل کے لیے مزید ورک پرمٹس جاری کرنے سے قبل محتاط رہے۔
ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز کے بعد سے امریکا میں غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی آئی ہے اور بنگلہ دیشیوں کو متعدد بار مختلف پروازوں کے ذریعے واپس بھیجا جا چکا ہے۔
مزید پڑھیں: برطانوی یونیورسٹیوں میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے طلبا کے داخلوں پر پابندی، سخت پالیسی نافذ
پیر کی پرواز سے قبل 28 نومبر کو 39 افراد جبکہ 8 جون کو 42 افراد کو چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے واپس بھیجا گیا تھا۔
مارچ اور اپریل کے دوران بھی کم از کم 34 افراد کو مختلف پروازوں پر ڈی پورٹ کیا گیا۔
سنہ 2024 کے اوائل سے اگست 2025 تک امریکا سے وطن واپس بھیجے گئے بنگلہ دیشیوں کی تعداد 220 سے تجاوز کر چکی ہے۔
امریکی قانون کے تحت غیر دستاویزی تارکین وطن کو عدالت کے حکم یا انتظامی فیصلے کے بعد ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔
اگر کسی پناہ گزین کی درخواست مسترد ہو جائے تو اس کی واپسی کا عمل آئی سی ای مکمل کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش نے سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کو باضابطہ طور پر ‘وی آئی پی’ شخصیت قرار دے دیا
حالیہ مہینوں میں تیز تر کارروائیوں کے باعث چارٹرڈ اور فوجی پروازوں کا استعمال بڑھ گیا ہے۔














