برطانوی نائجیرین آرٹسٹ نینا کالو نے آٹسٹک ہونے کے باوجود ٹرنر پرائز جیتنے والی پہلی فنکارہ ہونے کا اعزاز حاصل کر کے تاریخ رقم کر دی ہے۔
سی این این کے مطابق مجسمہ سازی اور دائرے نما، گردشی ڈرائنگز تیار کرنے والی نینا کالو فن کے معتبر ترین اعزازات میں شمار ہونے والا ٹرنر پرائز حاصل کرنے والی پہلی معذور فنکارہ ہیں۔ ٹرنر پرائز ماضی میں ڈیمین ہرسٹ اور فلم ساز اسٹیو میک کوئین جیسی عالمی شخصیات کو بھی دیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب حکومت کی طرف سے قائم ملک کے پہلے سرکاری آٹزم اسکول میں داخلے شروع
گلاسگو میں پیدا ہونے والی 59 سالہ نینا کالو، جو آٹزم کا شکار ہیں اور محدود زبانی ابلاغ رکھتی ہیں، کو یہ اعزاز برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ میں منعقدہ تقریب میں دیا گیا۔ لندن میں قائم ایکشن اسپیس کی ہیڈ آف آرٹسٹ ڈیولپمنٹ اور نینا کالو کی اسٹوڈیو مینیجر شارلٹ ہولنزہیڈ نے نینا کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تاریخ رقم کر دی ہے۔
شارلٹ ہولنزہیڈ کا کہنا تھا کہ جب نینا نے 1999 میں ایکشن اسپیس کے ساتھ کام شروع کیا تو آرٹ کی دنیا نے ان کے کام میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ ان کا فن نہ تو تسلیم کیا گیا، نہ سراہا گیا اور نہ ہی اسے مقبول سمجھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نینا کو طویل عرصے تک امتیازی سلوک کا سامنا رہا، جو آج بھی کسی حد تک جاری ہے، تاہم امید ہے کہ یہ ایوارڈ ایسے تمام تعصبات کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
یہ بھی پرھیے: آغاخان میوزک ایوارڈ جیتنے والے موسیقاروں کے ناموں کا اعلان، پاکستانی قوال استاد نصیر سامی بھی شامل
ججوں نے نینا کالو کے دیگر تخلیقی کاموں کو اظہارِ جذبات کو مجسمہ سازی اور ڈرائنگ میں متحرک انداز میں ڈھالنے، پیمانے، ترتیب اور رنگوں کے شاندار استعمال پر سراہا۔














