متحدہ عرب امارات نے رہائش اور امیگریشن قوانین کے نفاذ میں سختی کر دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ سنگین خلاف ورزیوں پر پانچ ملین درہم (تقریباً 3.8 کروڑ روپے) تک جرمانے اور قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس میں غیر قانونی افراد کو پناہ دینا یا ملازمت فراہم کرنا شامل ہے۔
غیر ملکیوں کے داخلے اور قیام کے وفاقی قانون کے تحت وہ افراد جو غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والوں کو پناہ، ملازمت یا کسی قسم کی معاونت فراہم کریں گے انہیں کم از کم ایک لاکھ درہم (تقریباً 7.6 لاکھ روپے) جرمانہ اور قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ متعدد ملزمان یا منظم گروپوں کے معاملے میں جرمانے میں اضافہ ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: غیرقانونی مقیم غیرملکی باشندوں میں سے کتنے پاکستان چھوڑ چکے ہیں؟
حکام نے کہا ہے کہ غیر قانونی رہائشیوں کو رہائش، ملازمت یا دیگر سہولیات فراہم کرنا قومی سلامتی کے سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
قانون میں ویزا کے غلط استعمال پر بھی سزا عائد کر دی گئی ہے، وزٹ یا ٹورسٹ ویزا پر کام کرنے پر جرمانے 10,000 درہم (تقریباً 76,000 روپے) سے شروع ہوتے ہیں اور جرم کی نوعیت کے مطابق قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔
رہائش کے دستاویزات کی جعلسازی یا غلط استعمال پر سب سے سخت سزائیں عائد کی جا سکتی ہیں جن میں 10 سال تک قید شامل ہے۔
حکام کے مطابق سخت نفاذ کا مقصد عوامی سلامتی، لیبر مارکیٹ کی سالمیت، اور ملک کے شناختی نظام کا تحفظ ہے۔












