اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کی مبینہ بدسلوکی رشوت طلبی اور شہریوں کو ہراساں کرنے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ خاندان کے مطابق 10 اور 11 دسمبر کی درمیانی رات عمرہ کی سعادت حاصل کرکے وطن واپس آنے والے زائرین کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ریسیو کرنے کے بعد واپسی پر پولیس ناکے پر انہیں روک کر چرس برآمدگی کا الزام لگایا گیا اور اہلکاروں نے مبینہ طور پر رقم کا مطالبہ کیا۔
صحافی ظفر نقوی کے مطابق ان کے بیٹے اور گاؤں سے آئے مہمان زائرین کی گاڑی کو رات تقریباً ساڑھے تین بجے 26 نمبر چونگی کے قریب پولیس نے روکا۔ تلاشی کے دوران جب ان کے بیٹے نے ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو پولیس اہلکاروں نے اس کا موبائل فون چھین کر ویڈیو ڈیلیٹ کر دی۔ بعد ازاں اہلکاروں نے ان سے مبینہ طور پر رقم وصول کی اور کسی قسم کی ایف آئی آر یا پرچہ درج کیے بغیر انہیں جانے دیا۔
آج یعنی 10 اور 11 دسمبر کی درمیانی رات
میرا کزن(ماموں کا بیٹا) عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد واپس آیا، وہ ایک کالج میں لیکچرر ہیں، انہوں نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر رات تقریبا ساڑھے بارہ بجے لینڈ کرنا تھا، ہمارے گاؤں سے کچھ رشتہ دار بھی آئے ان کے استقبال کیلئے، وہ ایئر پورٹ پہنچنے…— Zafar Naqvi (@ZafarNaqviZN) December 11, 2025
ظفر نقوی کا کہنا ہے کہ ہماری تین نسلوں میں کبھی سگریٹ تک استعمال نہیں کیا گیا۔ اگر واقعی گاڑی سے کوئی منشیات برآمد ہوئی تھی تو قانونی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ پرچہ کیوں نہیں دیا؟ اور ہمارے مہمانوں کی عزتِ نفس مجروح کیوں کی گئی؟
انہوں نے مزید کہا کہ پہلے ہم سنتے تھے کہ اس طرح کے واقعات پیش آئے ہیں اور اب یہ واقعہ ہمارے اپنے ساتھ پیش آ گیا ہے۔ دارالحکومت میں قانون کے رکھوالے شہریوں کو بلیک میل کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد پولیس کرپشن میں سرفہرست اداروں میں شمار ہوتی ہے اور اس واقعے نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔
انہوں نے وفاقی وزیرِ داخلہ اور آئی جی اسلام آباد پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف انکوائری کرائی جائے، ملوث اہلکاروں کی نشاندہی کی جائے اور انہیں قانون کے مطابق قرارِ واقعی سزا دی جائے۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے اسلام آباد پولیس نے کہا کہ آپ کی شکایت متعلقہ افسران کو بھیج دی گئی ہے۔ ہمیں شکایت کنندہ کا رابطہ نمبر بذریعہ ڈائریکٹ میسج بھیج دیں۔
معزز شہری، آپ کی شکایت متعلقہ افسران کو بھیج دی گئی ہے۔ ہمیں شکایت کنندہ کا رابطہ نمبر بذریعہ ڈائریکٹ میسج بھیج دیں۔ شکریہ
— Islamabad Police (@ICT_Police) December 11, 2025
ظفر نقوی نے سوشل میڈیا پوسٹ ایکس میں بتایا کہ وزیراعظم کے میڈیا کوآرڈینیٹر بدر شہباز، آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی، ڈی آئی جی آپریشنز جواد اور ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا نے رابطہ کر کے اظہارِ ہمدردی کیا ہے اور ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ابھی ابھی بدر شہباز صاحب میڈیا کوآرڈینیٹر ٹو پرائم منسٹر، IG Islamabad علی ناصر رضوی صاحب، DIG Operation جواد صاحب اور SSP operation قاضی علی رضا صاحب کی کال آئی، سب نے مجھ سے اظہار ہمدردی اور شرمناک حرکت کرنے والے پولیس اہلکاروں کیخلاف سخت کارروائی کرنے کی یقین دہانی ہے، میں…
— Zafar Naqvi (@ZafarNaqviZN) December 11, 2025
انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر ایس ایس پی آپریشنز سے ملاقات کر کے آئے ہیں جہاں نہ صرف اپنے کیس پر گفتگو کی بلکہ اسی نوعیت کی دیگر شکایات پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔ شہری کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے بروقت اور مثبت ردِعمل دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد انہوں نے اپنے رشتہ داروں اور مہمانوں کو بھی صورتِ حال سے آگاہ کر دیا ہے جو شدید پریشانی کا شکار تھے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں سیکورٹی کے نام پر کسی بھی شہری کے ساتھ ایسی حرکت نہ ہو۔














