افغان طالبان حکام نے باضابطہ دعوت موصول ہونے کے باوجود ایران میں اگلے ہفتے ہونے والے علاقائی اجلاس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔
طالبان وزارتِ خارجہ کے ڈپٹی ترجمان ضیا احمد نے کہاکہ یہ فیصلہ کابل کے اس جائزے کی بنیاد پر کیا گیا کہ افغانستان پہلے ہی موجودہ تعاون کے فریم ورک کے تحت علاقائی ممالک کے ساتھ فعال تعلقات رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کابل اپنے علاقائی تعلقات میں اہم پیش رفت کر چکا ہے۔
مزید پڑھیں: پاک افغان تعلقات میں نرمی؟ افغان علما کا بیان ’حوصلہ افزا مگر ناکافی‘
ایران 16 اور 17 دسمبر کو ’افغانستان سے متعلقہ پیش رفت‘ پر اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ اجلاس کے مرکزی نکات میں سے ایک پاکستان اور افغانستان کے طالبان حکومتی تعلقات میں تناؤ کو کم کرنا ہے۔
اس اجلاس میں پاکستان، ایران، چین، روس، تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان کے افغان امور کے خصوصی نمائندے شریک ہوں گے۔
ایران کے وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغائی نے جمعرات کو کہاکہ تہران اپنے ہمسایہ ممالک میں سیکیورٹی اور استحکام کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ اس تناظر میں ایران علاقائی ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے اور باہمی فہم کو مضبوط کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔
پاکستان اور طالبان حکام کے درمیان تعلقات میں تناؤ کے حوالے سے انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اجلاس موافقت بڑھانے اور تناؤ کو کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔
پاکستان طالبان تعلقات
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے طالبان حکام کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہیں، جس کی وجہ سرحدی جھڑپیں اور پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں اضافہ ہے۔ ایران نے بار بار ثالثی کی پیشکش کی ہے اور کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
جمعہ کو ایران کے اقوام متحدہ کے نمائندے نے خبردار کیاکہ افغانستان میں دہشتگرد گروپوں کی سرگرمی پڑوسی ممالک کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایران براہِ راست اور فوری طور پر افغانستان میں ہونے والی پیشرفت سے متاثر ہوتا ہے اور خبردار کیاکہ بغیر جامع قومی حکومت کے ملک میں تنازع شدت اختیار کرے گا۔
ابتدائی طور پر اجلاس ترکمانستان میں ہونا تھا، لیکن تہران نے سیکیورٹی کے خراب حالات کے پیش نظر اجلاس کی میزبانی کرنے کا فیصلہ کیا۔
دہشت گردی اور علاقائی مفادات
پاکستان کو مسلسل دہشتگرد حملوں کا سامنا ہے، جن میں سے زیادہ تر ان دہشت گرد گروپوں کی طرف سے کیے جا رہے ہیں جو افغان علاقے سے سرگرم ہیں۔ اسلام آباد بار بار طالبان سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ دہشتگرد گروپوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔
بین الاقوامی دباؤ
طالبان کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی دباؤ ان کے انسداد دہشتگردی کے وعدوں کے حوالے سے بڑھ رہا ہے۔
جمعہ کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں متعدد ممالک نے خبردار کیا کہ افغانستان ایک بار پھر دہشتگرد تنظیموں کا مرکز بن گیا ہے۔












