چین کے صوبہ سیچوان کے شہر چینگدو میں ایک شخص اس وقت شدید حیرت میں مبتلا ہو گیا جب طبی معائنے کے دوران انکشاف ہوا کہ اس نے جوانی میں جو لائٹر نگلا تھا، وہ گزشتہ 30 برس سے اس کے جسم میں موجود تھا۔
حیران کن طور پر 3 دہائیوں سے زائد عرصے تک اس ’غیر انسانی شے‘ نے اسے کوئی خاص تکلیف نہیں دی، تاہم ایک ماہ قبل اسے پیٹ میں مسلسل درد اور سوجن کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: کتے کے حملے کا نشانہ بننے والی خاتون کس عذاب سے گزر رہی ہے؟
متاثرہ شخص نے علامات کے بعد اسپتال سے رجوع کیا۔ اسپتال میں کیے گئے گیسٹرواسکوپی معائنے کے دوران ڈاکٹروں نے ایک سیاہ رنگ کی مستطیل شکل کی شے دریافت کی جو اس کے نظامِ ہاضمہ میں پھنسی ہوئی تھی، جس کی بعد میں شناخت لائٹر کے طور پر ہوئی۔
A Chinese man who had forgotten about swallowing a cigarette lighter 30 years ago, as a dare, was shocked to find it still worked after being removed by doctors. https://t.co/qMcGBD6yS7 #offbeat #weirdnews #China #Asia #funny pic.twitter.com/bgEUM5yGda
— Spooky (@OddityCentral) December 11, 2025
دوست سے شرط کے دوران لائٹر نگلا
ڈینگ نے بتایا کہ اس نے یہ لائٹر 1991 یا 1992 میں دوستوں کے ساتھ ایک محفل کے دوران نگلا تھا۔
’ہم شراب پی رہے تھے اور میں نے ایک دوست سے شرط لگائی۔ میں نے کہا اگر وہ لائٹر نگل سکتا ہے تو میں بھی نگل لوں گا۔ پھر میں نے ایک ہی گھونٹ میں لائٹر نگل لیا۔‘
اس وقت اس نے اس واقعے کو سنجیدہ نہیں لیا اور یہ سمجھا کہ لائٹر قدرتی طور پر جسم سے خارج ہو جائے گا، مگر وہ کئی دہائیوں تک بغیر کسی نمایاں مسئلہ پید اکیے بغیر اس کے جسم میں موجود رہا۔
لائٹر نکالنے کے لیے ڈاکٹروں کو کنڈوم استعمال کرنا پڑا
ابتدائی طور پر ڈاکٹر اس کیس پر حیران رہ گئے اور اس شے کو نکالنے میں مشکلات پیش آئیں۔ لائٹر انتہائی ہموار تھا، جس کے باعث فورسپس کے ذریعے اسے پکڑنا ممکن نہیں ہو رہا تھا۔

چند ناکام کوششوں کے بعد طبی ٹیم نے ایک منفرد طریقہ اختیار کیا۔ اینڈوسکوپ کی مدد سے مریض کے معدے میں کنڈوم داخل کیا گیا، پھر لائٹر کو احتیاط سے کنڈوم کے اندر منتقل کیا گیا اور فورسپس کے ذریعے اسے مسٹر ڈینگ کے منہ کے راستے باہر نکال لیا گیا۔
یہ پورا عمل تقریباً 20 منٹ میں مکمل ہوا
30 سال بعد بھی لائٹر سالم حالت میں موجود
حیرت انگیز طور پر لائٹر 30 سال تک معدے میں رہنے کے باوجود ساختی طور پر سالم تھا۔ اس کی لمبائی تقریباً 7 سینٹی میٹر تھی اور اس پر سیاہ تہہ جمی ہوئی تھی، جو غالباً معدے کے تیزاب کے طویل اثرات کا نتیجہ تھی۔
مزید حیرت کی بات یہ تھی کہ لائٹر کے اندر اب بھی کچھ مقدار میں سیال موجود تھا۔

ڈاکٹروں کی وارننگ
ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ اگر لائٹر کے اندر موجود سیال معدے کے تیزاب کے ساتھ ردِعمل کرتا تو یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی غیر انسانی اشیا کو فوری طور پر نکال دینا چاہیے، کیونکہ اس سے آنتوں میں سوراخ جیسے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
اپنی جوانی کی نادانی پر غور کرتے ہوئے مسٹر ڈینگ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین تھا کہ یہ خود ہی نکل جائے گا لیکن لائٹر کبھی باہر ہی نہیں نکلا۔














