سندھ کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے نئی پینشن اسکیم کی منظوری دے دی۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
مزید پڑھیں: نئی پینشن اسکیم، سرکاری خزانے سے کتنا بوجھ کم ہوگا؟
ترجمان کے مطابق نئی پینشن اسکیم یکم جولائی 2024 کے بعد بھرتی ہونے والے ملازمین پر لاگو ہوگی۔
کابینہ کو بتایا گیا کہ محکمہ خزانہ سندھ پینشن فنڈ مینیجرز سے معاہدے کرے گا، جو ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ہوں گے اور چار ذیلی فنڈز یعنی منی مارکیٹ، قرضہ، ایکویٹی انڈیکس اور ایکویٹی کا انتظام سنبھالیں گے۔
اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ قدرتی موت یا معذوری کی صورت میں 10 لاکھ روپے اور حادثاتی موت کی صورت میں 20 لاکھ روپے انشورنس فراہم کی جائے گی، جبکہ انشورنس رقم میں ہر سال 10 فیصد اضافہ ہوگا۔
کابینہ نے سندھ ریونیو بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر وسیم میمن کی مدت ملازمت میں دسمبر 2025 سے 2027 تک دو سال کی توسیع کی منظوری دی، جس کی بنیاد ان کی کارکردگی اور ریونیو وصولیوں میں اضافے پر رکھی گئی۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق اس دور میں ریونیو کلیکشن میں 140 فیصد اضافہ ہوا۔
مزید پڑھیں: پینشن بل پر قابو پانے کے لیے ریٹائرمنٹ کی اوسط عمر 55 سال کرنے پر غور
کابینہ نے کراچی میں ایم اے جناح بندر روڈ پر آئی ٹی ٹاور کے قیام کے لیے تاریخی عمارت کی خریداری کی بھی منظوری دے دی۔












