کراچی کی انسداد دہشتگردی عدالت نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو آپریشن کے بعد گرفتار سابق ایم پی اے کامران فاروقی کو 9 سال پرانے 2 مقدمات میں بری کردیا۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: پولیس تحویل میں میڈیا پر اعترافی بیان ناقابلِ قبول، ملزم بری
کراچی سینٹرل جیل کے انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں سنائے گئے فیصلے کے مطابق ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو آپریشن کے دوران گرفتار کامران فاروقی کے خلاف پراسیکیوٹر 9 سال میں جرم ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ عدالت نے شواہد کی کمی کے سبب ملزم کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔
وکلا صفائی عابد زمان اور اسامہ علی گجر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیاکہ کامران فاروقی کو رینجرز نے ان کے گھر سے حراست میں لیا تھا، اور بعد میں ان کے خلاف 2 مقدمات درج کیے گئے، جن میں پراسیکیوٹر کے پاس کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں تھے۔
پراسیکیوشن کے مطابق کامران فاروقی کو 15 دسمبر 2016 کو گارڈن میں اسنیپ چیکنگ کے دوران گرفتار کیا گیا تھا، جس کے دوران ان سے غیر قانونی اسلحہ اور ہینڈ گرنیڈ برآمد ہوئے تھے۔
مزید پڑھیں: 19 خواتین اور بچوں کو بےدردی سے قتل کرنے کا اعتراف کرنے والا ملزم عدالت سے بری
ان الزامات کی بنیاد پر تھانہ نبی بخش میں 2 مقدمات درج کیے گئے تھے، تاہم عدالت نے شواہد کی کمی کے باعث انہیں بری کردیا۔














