مبینہ جعلی ڈگری کیس کا سامنا کرنے والے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق جہانگیری نے چیف جسٹس عدالت عالیہ جسٹس سرفراز ڈوگر پر بڑا الزام عائد کردیا۔
جسٹس طارق جہانگیری نے جعلی ڈگری کیس میں بینچ کی سربراہی کرنے والے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے بینچ سے علیحدہ ہونے کی درخواست دائر کی ہے۔
مزید پڑھیں: ’حلف اٹھاتا ہوں میری ڈگری اصلی ہے‘، جسٹس طارق جہانگیری، جسٹس ڈوگر پر اعتراض کردیا
طارق جہانگیری نے دعویٰ کیا ہے کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے انہیں تجویز دی تھی کہ وہ عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔
انہوں نے درخواست میں کہا ہے کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے یہ بات تسلیم کی کہ ان پر پریشر ہے کہ وہ میرے خلاف جعلی ڈگری کیس سنیں۔ ’مجھے کہا گیا کہ استعفیٰ دے کر میرے سپرد کردیں۔‘
جسٹس طارق جہانگیری نے کہاکہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اس سارے معاملے کے بعد اب اہل نہیں رہے کہ وہ میرا کیس سن سکیں، انہیں بینچ سے علیحدہ ہو جانا چاہیے۔ ’چیف جسٹس نے زیرالتوا مقدمے پر بات کرکے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی۔‘
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پریشر آنے کی صورت میں چیف جسٹس کو چاہیے تھا کہ کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق چلتے مگر انہوں نے مجھے استعفے کا مشورہ دیا۔
انہوں نے مزید کہاکہ میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل سے بھی رجوع کر چکا ہوں، انہیں چاہیے کہ ڈگری کیس کی سماعت سے معذرت کریں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس طارق جہانگیری کی ڈگری سے متعلق مقدمہ جاری رکھ سکتی ہے؟
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف مبینہ جعلی ڈگری کیس کی سماعت جاری ہے، جس پر مزید بحث کل بروز جمعرات کو ہوگی۔














