بنگلہ دیش کی حکومت نے 14 سرکاری ملازمین اور افسران کو عارضی طور پر معطل کردیا ہے، جو ملک کے مالی مشیر صالح الدین احمد کو سیکریٹریٹ میں دفتر میں محصور کرنے کے الزام میں گرفتار ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیشی فوج نے میجر صادق کو حراست میں لے لیا، حکومتی مخالفین کی تربیت کا الزام
مشیر خزانہ کو دفتر میں محصور کرنے کا واقعہ 10 دسمبر کو پیش آیا، جب غیر کیڈری ملازمین کے ایک گروپ نے سیکریٹریٹ اسٹاف کے لیے 20 فیصد ’سیکریٹریٹ الاؤنس‘ کی مانگ کرتے ہوئے مالی مشیر کو ان کے دفتر میں محصور کردیا۔
احتجاج کے دوران ملازمین نے مالی مشیر کو کئی گھنٹوں تک دفتر سے باہر جانے نہیں دیا۔ اگلے دن جب مظاہرے دوبارہ شروع ہوئے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے احتجاجی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔
گرفتاری کے بعد متعلقہ وزارتوں نے الگ الگ ملازمین کو عارضی طور پر معطل کرنے کے احکامات جاری کیے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا سے مزید 39 بنگلہ دیشی واپس، ہر فرد نے 30 سے 35 لاکھ ٹکا خرچ کیے
معطل ہونے والوں میں وزارتِ داخلہ کے 4 ملازمین شامل ہیں، جن میں محمد بدی الکبیر، بنگلہ دیش سیکریٹریٹ آفیسرز اینڈ ایمپلائز یونائیٹڈ کونسل کے ایک دھڑے کے صدر اور 3 دفتر کے اسسٹنٹس شامل ہیں۔
اس کے علاوہ وزارتِ صحت کے 7 ملازمین بھی معطل کیے گئے ہیں، جن میں انتظامی افسران، پرسنل آفیسرز اور دفتر کے اسسٹنٹس شامل ہیں۔ وزارتِ اطلاعات، کابینہ ڈویژن اور وزارتِ خزانہ سے ایک ایک ملازم کو بھی معطلی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
گرفتار ملازمین کو بعد میں بنگلہ دیش کے اینٹی ٹیرر ازم ایکٹ 2009 کے تحت رسمی طور پر گرفتار کیا گیا، جس پر اس قانون کے سخت اطلاق کی وجہ سے عوامی اور سیاسی حلقوں میں توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور کے ڈائریکٹر کو عہدے سے ہٹادیا گیا، وجہ کیا بنی؟
اس اقدام کو کئی حلقوں میں ملازمین کے حقوق، احتجاج کے طریقوں، اور حکومت کی کارروائی پر سوالات اٹھانے کا سبب قرار دیا گیا ہے۔
اس واقعے نے بنگلہ دیش میں انتظامی اور سیاسی حلقوں میں بحث کو جنم دیا ہے، جہاں ملازمین کے احتجاجی حقوق، سرکاری دفاتر میں شورش، اور حکومت کی سخت پالیسیوں پر مباحثے جاری ہیں۔














