دل کی بیماری کو کبھی بڑھاپے کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب یہ طرزِ زندگی سے جڑی عام بیماری بنتی جا رہی ہے۔ بھارت میں دل کی بیماری کی شرح مغربی ملکوں کے مقابلے میں دوگنی بتائی جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود عام افراد ابھی تک دل کے دورے کی واضح علامات سے واقف نہیں۔
ڈاکٹرز کے مطابق زیادہ تر لوگ دل کا دورہ صرف سینے کے درد سے جوڑتے ہیں، جبکہ حقیقت میں اس کے کئی پوشیدہ اور غیر روایتی اشارے بھی ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آنکھوں کا ویسکولر سسٹم دل کی بیماریوں کے خطرات ظاہر کرسکتا ہے، تحقیق
ڈاکٹر سیمیر گپتا کے مطابق ایک مریضہ سینے میں جلن اور بدہضمی سمجھ کر علامات کو نظر انداز کرتی رہیں اور گھر میں معمولی دوائیں استعمال کرتی رہیں، جبکہ وہ دل کے شدید دورے میں مبتلا تھیں۔ جب اسپتال پہنچیں تو ان کا ایک خون کی نالی مکمل طور پر بند پائی گئی اور فوراً 2 اسٹنٹ لگانے پڑے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ یہ صورتحال بہت عام ہے، لوگ علامات کو سمجھ نہیں پاتے اور قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے۔

دل کے دورے کی علامات لازمی نہیں کہ کلاسیکی انداز میں سامنے آئیں۔ سینے میں شدید دباؤ، جکڑن، بھاری پن، جلنے کا احساس، گلے یا جبڑے تک درد کا پھیل جانا، دونوں بازوؤں میں کھنچاؤ، پسینہ آنے کے ساتھ بے چینی، متلی یا الٹی، یہ دل کے درد کی اہم علامات ہو سکتی ہیں۔ خاص طور پر خواتین، ذیابیطس کے مریض اور بزرگ افراد اکثر غیر روایتی درد محسوس کرتے ہیں، اس لیے انہیں علامات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:‘لاسی’ اور ‘لاسٹ اِن اسپیس’ جیسی یادگار فلموں کی مشہور اداکارہ لاک ہارٹ انتقال کرگئیں
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ اگر سینے کا درد اچانک بڑھ جائے، حرکت کرنے پر بگڑ جائے، پسینہ یا متلی کے ساتھ آئے، جبڑے یا بازو تک پھیل جائے، یا پہلے والے دل کے مسئلے جیسا محسوس ہو تو اسے بدہضمی کہہ کر نظر انداز نہ کریں بلکہ فوری طور پر اسپتال جائیں۔ ابتدائی ای سی جی اور فوری طبی امداد زندگی بچا سکتی ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ دل کے دورے کی پہچان اور فوری اقدام ہی اصل فرق ڈال سکتے ہیں، اس لیے صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ ساتھ علامات کی آگاہی بھی ضروری ہے۔ اگر آپ یا آپ کے آس پاس کسی کو ایسی تکلیف ہو تو وقت ضائع کیے بغیر طبی مدد حاصل کریں۔













