وینزویلا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ملک پر تیل کی ناکہ بندی کے اعلان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی مداخلت پسندانہ اور نوآبادیاتی زبان واشنگٹن کے اس دیرینہ منصوبے کو بے نقاب کرتی ہے، جس کا مقصد وینزویلا کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے منگل کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ امریکا وینزویلا آنے اور جانے والے تمام پابندی زدہ آئل ٹینکروں کی مکمل اور جامع ناکہ بندی کر رہا ہے۔ انہوں نے کاراکاس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مبینہ طور پر ’چوری کیے گئے امریکی اثاثے واپس کرے ‘، ورنہ امریکی بحری طاقت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوجائے۔
امریکی عزائم بے نقاب ہو گئے، وینزویلا
منگل کی رات جاری کیے گئے ایک سرکاری بیان میں وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسے روڈریگز نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے بیانات سے امریکہ کی اصل نیت واضح ہو گئی ہے، جو وینزویلا کے تیل، زمین اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے امریکی فورسز کی کمانڈو کارروائی، وینزویلا کے تیل بردار جہاز پر قبضے کی ویڈیو وائرل
بیان میں ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا گیا کہ وینزویلا نے امریکی اثاثے ’چوری‘ کیے ہیں، اور ان کے بیانات کو مداخلت پسندانہ اور نوآبادیاتی قرار دیا گیا۔ وینزویلا کی حکومت نے الزام عائد کیا کہ امریکا کی جانب سے کیریبین میں امریکی بحری افواج کو تعینات کر کے پابندی زدہ ٹینکروں کو وینزویلا کی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا نکلنے سے روکنے کا حکم دینا بین الاقوامی قانون، آزاد تجارت اور جہاز رانی کی آزادی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
’ٹرمپ خود کو ہمارے وسائل کا مالک سمجھتے ہیں‘
بیان میں کہا گیا کہ اپنے سوشل میڈیا بیانات کے ذریعے امریکا کے صدر یہ تاثر دیتے ہیں کہ وینزویلا کا تیل، زمین اور معدنی دولت ان کی ملکیت ہے۔ اسی بنیاد پر وہ بحری فوجی ناکہ بندی مسلط کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہماری سرزمین کی دولت لوٹی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے امریکا اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ نے بحری جہاز تعینات کردیے
نائب صدر ڈیلسے روڈریگز نے کہا کہ واشنگٹن کے اقدامات جھوٹ اور گمراہ کن پروپیگنڈے کی ایک بڑی مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد وینزویلا کے قدرتی وسائل پر قبضے کو جواز فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے ہمیشہ وینزویلا پر معاشی اور سیاسی غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، چاہے وہاں کسی بھی جماعت کی حکومت رہی ہو۔
خودمختاری کا اعادہ
وینزویلا کی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون، اپنے آئین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے تمام حقوق استعمال کرے گی۔ بیان میں وینزویلا کی قدرتی دولت پر مکمل خودمختاری اور کیریبین سمیت دنیا بھر میں آزاد تجارت اور جہاز رانی کے حق کا اعادہ کیا گیا۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ وینزویلا کبھی دوبارہ کسی سلطنت یا کسی بھی غیر ملکی طاقت کی کالونی نہیں بنے گا۔
امریکی حملے اور منشیات کے الزامات
وینزویلا کے مطابق، ستمبر سے اب تک امریکی فوج نے مبینہ کارٹل کشتیوں پر حملوں میں 80 سے زائد افراد کو ہلاک کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ یہ کشتیاں وینزویلا کی حکومت امریکا میں منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کر رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی حملے کا خوف، عالمی ایئرلائنز وینزویلا کے لیے پروازیں معطل کرنے پر مجبور
تاہم وینزویلا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کا منشیات کی اسمگلنگ سے کوئی تعلق نہیں، اور یہ حملے دراصل حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) کی ایک سازش کا حصہ ہیں، جن کا مقصد وینزویلا کے قدرتی وسائل کو لوٹنا ہے۔
وینزویلا نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ بیرونی دباؤ، پابندیوں اور فوجی دھمکیوں کے باوجود اپنی خودمختاری اور وسائل کے تحفظ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔













