بنگلہ دیش کی حکومت نے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم کے موقع پر غیر ملکی سفارتی مشنز کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ کی جانب سے یہ یقین دہانی ڈھاکہ میں واقع اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس ’پدما‘ میں منعقدہ ایک بریفنگ کے دوران کرائی گئی، جس میں مختلف ممالک کے سفارتکاروں اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی یونین کا بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات کے لیے آبزرویٹری مشن بھیجنے کا اعلان
بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ اسد عالم سیام نے کہا کہ انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے مکمل طور پر الرٹ ہیں، جن میں مسلح افواج بھی شامل ہیں۔
انہوں نے سفارتکاروں کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے بین الاقوامی مبصرین کو انتخابات کی نگرانی کی دعوت دے رکھی ہے اور اگر وہ شرکت کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
وزارت خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غیر ملکی سفارتکاروں اور سفارتی مشنز کی سیکیورٹی کے لیے مناسب اور مؤثر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انتخابات سے قبل بنگلہ دیش میں سیاسی جماعتوں کے لیے سیکیورٹی پروٹوکول جاری کرنے کا فیصلہ
بریفنگ میں ڈھاکہ میں تعینات تقریباً 40 غیر ملکی سفارتکار شریک ہوئے، یہ اجلاس انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد امن و امان کی صورتحال پر غیر ملکی مشنز کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور خدشات کے پیش نظر منعقد کیا گیا، خاص طور پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے ظاہر کیے گئے تحفظات کے تناظر میں۔
حکومتی حکام نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ شفاف، پرامن اور منظم انتخابی عمل کو یقینی بنایا جائے گا اور ملک میں کسی بھی قسم کی بدامنی یا انتشار کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
بنگلہ دیشی حکومت کے مطابق آزاد اور محفوظ انتخابات جمہوری عمل کے استحکام کے لیے ناگزیر ہیں اور اس مقصد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔














