جرمن حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان 535 افغان شہریوں کو جرمنی میں پناہ دے گی جن سے پہلے پناہ کا وعدہ کیا گیا تھا مگر وہ طویل عرصے سے پاکستان میں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
جرمنی کے وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ نے آر این ڈی میڈیا نیٹ ورک کو بتایا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ان کیسز کی کارروائی جہاں تک ممکن ہو دسمبر میں مکمل کر لی جائے تاکہ متعلقہ افراد جرمنی میں داخل ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھیے: ان میں سے زیادہ تر اچھے نہیں ہوتے، ٹرمپ کا طویل عرصے تک پناہ گزینوں کی آمد روکنے کا اعلان
یہ افغان شہری سابق جرمن حکومت کے شروع کردہ ایک پناہ گزین پروگرام کے تحت قبول کیے گئے تھے، تاہم مئی میں قدامت پسند چانسلر فریڈرک مرز کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ پروگرام معطل کر دیا گیا، جس کے باعث یہ افراد پاکستان میں پھنس گئے۔
اس اسکیم میں شامل افغان افراد میں وہ لوگ شامل ہیں جنہوں نے افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کے دوران جرمن مسلح افواج کے ساتھ کام کیا تھا، یا وہ افراد جو 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد خاص خطرات سے دوچار ہیں، جن میں انسانی حقوق کے کارکن، صحافی اور ان کے اہلِ خانہ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا نے افغان اسپیشل امیگرنٹ ویزا منسوخ کر دیا، ہزاروں خاندان پھنس گئے
پاکستان نے ان افغان شہریوں کے کیسز نمٹانے کے لیے سال کے اختتام تک کی مہلت دی ہے، جس کے بعد انہیں واپس افغانستان بھیجے جانے کا خدشہ ہے۔
وزیر داخلہ ڈوبرنٹ نے کہا کہ ہم اس معاملے پر پاکستانی حکام سے رابطے میں ہیں اور مزید بتایا کہ ممکن ہے چند کیسز ایسے ہوں جن پر ہمیں نئے سال میں بھی کام کرنا پڑے۔
یہ بھی پڑھیے: سرحد کھولیں یا پناہ گزینوں کی ملک بدری عارضی طور پر روک دیں، افغان سفیر سردار احمد شکیب
گزشتہ ہفتے جرمن وزارت داخلہ نے بتایا تھا کہ اس پروگرام میں شامل 650 افراد کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ انہیں جرمنی میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کیونکہ نئی حکومت کے مطابق یہ اب جرمنی کے قومی مفاد میں نہیں۔
جرمن حکومت نے پاکستان میں موجود بعض افغان شہریوں کو جرمنی میں آباد ہونے کے دعوے سے دستبردار ہونے کے بدلے مالی امداد کی پیشکش بھی کی ہے، تاہم نومبر کے وسط تک صرف 62 افراد نے یہ پیشکش قبول کی۔
اس ماہ کے آغاز میں جرمنی کی 250 سے زائد تنظیموں، جن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل، سیو دی چلڈرن اور ہیومن رائٹس واچ شامل ہیں، نے کہا تھا کہ اس پروگرام کے تحت تقریباً 1,800 افغان شہری پاکستان میں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں جرمنی میں داخلے کی اجازت دی جائے۔














