سعودی عرب نے گزشتہ ایک دہائی، خصوصاً وژن 2030 کے اجرا کے بعد ایسی ہمہ جہتی تبدیلیوں کا سفر طے کیا ہے جس نے شہروں میں روزمرہ زندگی کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ محفوظ طرزِ زندگی، جدید انفراسٹرکچر، رہائش، ٹیکنالوجی، سبز منصوبوں اور معیاری شہری سہولتوں نے نہ صرف شہریوں بلکہ غیر ملکی باشندوں اور مستقل رہائش اختیار کرنے والوں کے لیے بھی مملکت کو ایک پرکشش ملک بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کی تاریخی کامیابی، ورلڈ بینک انڈیکس میں دوسری پوزیشن
سعودی گزٹ کی ایک تازہ رپورٹ ’سِٹیز آف پاسیبلٹی: دی ایوولوشن آف کوالٹی آف لائف اِن سعودی عرب‘ کے مطابق مختلف شعبوں میں ہونے والی ترقی نے مملکت کو دنیا بھر کے لوگوں کے لیے نیا گھر بنانے کا رجحان بڑھا دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رہائش کے انتخاب میں سب سے اہم پہلو سیکیورٹی اور تحفظ ہوتا ہے، اور سعودی عرب نے اس شعبے میں نمایاں برتری حاصل کی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 93 فیصد رہائشی رات کے وقت اطمینان سے تنہا چل سکتے ہیں، جو عالمی اوسط 71 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔
ایمرجنسی کالز کی فوری رسپانس سسٹم، موبائل پولیس اسٹیشن، کمانڈ سینٹرز اور منظم حفاظتی ڈھانچہ بڑے شہروں کو مزید محفوظ بنائے ہوئے ہے۔
Wellness has a new home – @AMAALA in Saudi Arabia.
With six ultra-luxury resorts, a signature yacht club and marine life institute set to open their doors, we can’t wait to welcome guests and residents seeking wellbeing, serenity, and style.
For more: https://t.co/Yoe97HKLCJ… pic.twitter.com/5XUIEjKumX
— Red Sea Global (@RedSeaGlobal) November 11, 2025
سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں بھی سعودی عرب دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی سائبر سیکیورٹی انڈیکس کے مطابق مملکت اس میدان میں نمایاں کارکردگی دکھا رہی ہے، جہاں مسلسل آگاہی مہمات اور ماہرین کی موجودگی آن لائن تحفظ کو مضبوط بنا رہی ہے۔
اسی کے ساتھ شہری منصوبہ بندی اور جدید ماحول نے بھی مملکت کی کشش میں اضافہ کیا ہے۔ گرین ریاض، نیو مرابہ اور اسپورٹس بلیوارڈ جیسے بڑے منصوبے پبلک پارکس، پیدل راستوں اور کمیونٹی اسپیسز کے ذریعے شہروں کو خاندانوں کے لیے زیادہ آرام دہ بنا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کی تاریخی کامیابی، ورلڈ بینک انڈیکس میں دوسری پوزیشن
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی تیز رفتار ترقی جاری ہے۔ ملک بھر میں سڑکوں کا جال 2 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ پر محیط ہے، جبکہ گزشتہ برس ہوائی اڈوں نے 128 ملین مسافروں کو سہولت فراہم کی۔ ریاض میٹرو اور جدید بس سسٹم شہروں میں سفر کو آسان بنا رہے ہیں، جبکہ الیکٹرک اور خودکار ٹرانسپورٹ کے منصوبے مستقبل کے نظام کو شکل دے رہے ہیں۔
ماحولیاتی منصوبوں میں بھی مملکت نئی مثالیں قائم کر رہی ہے۔ اب تک 11 کروڑ 50 لاکھ درخت لگائے جا چکے ہیں جبکہ 2030 تک گرین ریاض میں مزید لاکھوں شجرکاری کا ہدف رکھا گیا ہے۔ مؤثر ماحول دوست پالیسیوں کے ذریعے جنگلی حیات کی بحالی، سمندری اور زمینی قدرتی علاقوں کے تحفظ اور فضائی معیار میں بہتری لائی جا رہی ہے۔
رہائشی منصوبوں میں اسکول، صحت مراکز، پارکس اور مارکیٹس کے ساتھ نئے ہاؤسنگ سسٹمز خاندانوں کے لیے محفوظ اور آسان رہائش فراہم کر رہے ہیں۔

پبلک اسپیسز میں جدہ اور الخبر کے ساحلی راستے، پارکس اور فیملی ایریاز شہریوں میں طرزِ زندگی کو خوشگوار بنا رہے ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی کی بنیاد پر بنایا گیا اسمارٹ سسٹم ٹریفک مینجمنٹ، نگرانی اور ڈیجیٹل سروسز کے ذریعے روزانہ کے کاموں کو آسان کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر سعودی عرب میں معیارِ زندگی مختلف شہروں میں الگ الگ خصوصیات کے ساتھ نمایاں ہو رہا ہے. ریاض کاروباری مرکز ہے، جدہ ساحلی اور ثقافتی دلکشی رکھتا ہے، الخبر تعلیم و تجارت کے مواقع پیش کرتا ہے، مدینہ روایت اور جدید سہولتوں کا امتزاج ہے اور ابہا پہاڑی آب و ہوا کے ساتھ منفرد طرز زندگی فراہم کرتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں غیر ملکی باشندوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جنہوں نے روزگار، سیکیورٹی، جدید انفراسٹرکچر اور بہتر مواقع کو سعودی عرب منتقل ہونے کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مملکت اب صرف معاشی ترقی پر نہیں بلکہ لوگوں کی روزمرہ زندگی بہتر بنانے پر بھی توجہ دے رہی ہے— اسی لیے زیادہ سے زیادہ افراد سعودی عرب کو مستقل گھر بنانے کا انتخاب کر رہے ہیں۔













