بونڈی بیچ پر حملہ آوروں میں سے ایک کو قابو میں کرکے اس سے اسلحہ چھیننے والے آسٹریلیا کے شامی نژاد ’ہیرو‘ احمد الاحمد کو ان کی بہادری کے اعتراف میں 25 لاکھ ڈالر کا چیک پیش کیا گیا۔
یہ چیک انسٹاگرام پر معروف عوامی شخصیت زیکری ڈیرینیووسکی نے احمد الاحمد کو دیا، جنہوں نے اس ملاقات کی ویڈیو بھی انسٹاگرام پر شیئر کی۔
The moment Ahmed Al Ahmed learned that people around the world had raised 2.5 million Australian dollars in gratitude for his heroic actions during the Bondi attack.
Humanity still shows up.
pic.twitter.com/R1xwqNJO3g— Restoring Your Faith in Humanity (@HumanityChad) December 19, 2025
ڈیرینیووسکی کے مطابق یہ رقم دنیا بھر کے 43 ہزار افراد نے مل کر جمع کی، ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احمد الاحمد اسپتال کے بستر پر لیٹے ہیں اور ان کے بائیں ہاتھ پر پلاسٹر چڑھا ہوا ہے۔ واقعے کے دوران انہیں کندھے پر متعدد گولیاں لگیں۔
چیک وصول کرتے وقت 43 سالہ احمد الاحمد نے دریافت کیا کہ کیا میں واقعی اس کا حقدار ہوں۔ ’جب میں لوگوں کی جان بچاتا ہوں تو یہ دل سے کرتا ہوں۔‘
یہ بھی پڑھیں: بونڈی بیچ واقعہ: حملہ آور بھارتی شہری تھے، فلپائن امیگریشن نے تصدیق کر دی
انہوں نے اس حملے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ یہودی تہوار حنوکا کی تقریب کے دوران پیش آیا۔
بونڈی بیچ پر مسلح افراد نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور کم از کم 42 زخمی ہوئے، یہ واقعہ آسٹریلیا کی تاریخ کی خطرناک ترین اجتماعی فائرنگ میں سے ایک تھا۔
احمد الاحمد کا کہنا تھا کہ اس دن بونڈی بیچ پر جمع تمام افراد خوشی منانے کے حق دار تھے اور یہ ان کا بنیادی حق تھا۔ ’خدا آسٹریلیا اور یہاں کے باسیوں کی حفاظت کرے۔‘














