کولڈ پلے کنسرٹ میں وائرل ہونے والے کِس کیمرہ واقعے پر سابق ایچ آر ایگزیکٹو کرسٹن کیبوٹ نے بالآخر خاموشی توڑ دی۔ نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں انہوں نے اس لمحے کو غلط فیصلہ قرار دیتے ہوئے اپنی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ اس کی قیمت انہیں اپنے کیریئر اور ذاتی زندگی کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔
مزید پڑھیں: کولڈ پلے اسکینڈل، ٹیک کمپنی ایسٹرونومر کے سی ای او کے بعد ایچ آر ہیڈ نے بھی استعفیٰ دے دیا
کرسٹن کیبوٹ، جو اس وقت اپنی کمپنی کے سی ای او اینڈی بائرن کے ساتھ کنسرٹ میں نظر آئیں، نے بتایا کہ وہ لمحہ نجی تھا مگر اچانک عوامی بن گیا۔ ان کے مطابق، اس واقعے کے بعد انہیں شدید عوامی ردعمل، آن لائن ہراسانی اور حتیٰ کہ جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ انہیں انتہائی نازیبا القابات سے بھی پکارا گیا۔
Podczas koncertu zespołu Coldplay, “Kiss Cam” nieoczekiwanie stało się narzędziem do ujawnienia rzekomego romansu.
Kamera pokazała Andy’ego Byrona, dyrektora generalnego firmy Astronomer, w objęciach Kristin Cabot, szefowej działu HR. pic.twitter.com/HzhO2nXxo4
— MNFPL (@musicnewsfactpl) July 17, 2025
انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ اور اینڈی بائرن دونوں اس وقت اپنے شریکِ حیات سے علیحدگی کے عمل میں تھے، مگر اس کے باوجود زیادہ تر تنقید اور نفرت کا نشانہ وہ خود بنیں۔ بطور عورت، ہمیشہ کی طرح، زیادہ بوجھ مجھ پر ہی ڈالا گیا۔
کرسٹن کے مطابق اس ایک واقعے نے ان کے برسوں کی پیشہ ورانہ کامیابیوں کو پسِ پشت ڈال دیا اور وہ عملی طور پر ناقابلِ ملازمت بن گئیں۔ یہ ایک اسکارلٹ لیٹر کی طرح ہے، جیسے میری پوری زندگی اسی ایک لمحے تک محدود ہو گئی ہو۔
مزید پڑھیں: امریکی ٹیک کمپنی کے سی ای او نے خاتون ملازمہ کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد استعفیٰ دے دیا
آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی کہانی ان کے بچوں کے لیے سبق بنے کہ غلطیاں ہو جاتی ہیں، لیکن ایک غلطی انسان کی قدر یا پوری شناخت کا فیصلہ نہیں ہونی چاہیے۔












