امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سالانہ نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (NDAA) پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت امریکی تاریخ کے سب سے بڑے دفاعی بجٹ کی منظوری دی گئی ہے۔ اس قانون کے ذریعے مجموعی طور پر 901 ارب ڈالر فوجی اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ آئندہ 2 برسوں میں یوکرین کے لیے 800 ملین ڈالر کی امداد بھی شامل ہے۔
یہ بل، جو مالی سال 2026 کے لیے پینٹاگون کی ترجیحات کا تعین کرتا ہے، انتظامیہ کی ابتدائی درخواست سے تقریباً 8 ارب ڈالر زیادہ ہے اور اسے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس میں اسلحے کی خریداری، فوجیوں کی تنخواہوں اور صدر ٹرمپ کے حمایت یافتہ بڑے دفاعی منصوبوں کے لیے فنڈز شامل ہیں۔
یوکرین کے لیے امداد، مگر تناسب نہایت کم
یوکرین کے لیے مختص رقم یوکرین سیکیورٹی اسسٹنس انیشی ایٹو (USAI) کے تحت دی جائے گی، جس کے مطابق ہر سال 400 ملین ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔ یہ رقم مجموعی دفاعی بجٹ کا 0.09 فیصد سے بھی کم بنتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے واریئر ڈیویڈنڈ: ٹرمپ نے لاکھوں امریکی فوجیوں کو فی کس 1,776 ڈالر دینے کا اعلان کردیا
یہ فنڈز امریکی فوجی ذخائر سے براہِ راست ہتھیار دینے کے بجائے امریکی دفاعی کمپنیوں کو ادائیگی کے لیے استعمال ہوں گے، تاکہ وہ یوکرین کے لیے نئے ہتھیار اور فوجی سازوسامان تیار اور فراہم کریں۔
یوکرین میں کرپشن اسکینڈل کے سائے
یہ امداد ایسے وقت میں دی جا رہی ہے جب یوکرین ایک بڑے کرپشن اسکینڈل کی زد میں ہے، جس نے ملکی قیادت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق یوکرین کے توانائی کے شعبے میں 100 ملین ڈالر کی رشوت اسکیم بے نقاب ہوئی ہے، جو مغربی مالی امداد پر بہت حد تک انحصار کرتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس تحقیقات میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی کے قریبی ساتھی بھی شامل پائے گئے، جس کے بعد کئی اعلیٰ عہدیداروں نے استعفیٰ دے دیا۔ اس صورتحال نے واشنگٹن میں یوکرین کو مزید امداد دینے پر تنقید کو بھی ہوا دی ہے۔
امریکی فوج کے لیے تنخواہوں میں اضافہ اور نئے ہتھیار
یوکرین امداد کے علاوہ، اس قانون کے تحت امریکی فوجیوں کی تنخواہوں میں تقریباً 4 فیصد اضافہ، نئے جنگی جہاز، طیارے اور میزائل سسٹمز، چین سے منسلک بعض امریکی سرمایہ کاریوں پر نئی پابندیاں بھی شامل ہیں۔
بل میں پینٹاگون کی تنظیمِ نو سے متعلق صدر ٹرمپ کے ایجنڈے کی بھی توثیق کی گئی ہے، جس میں تنوع، مساوات اور شمولیت (DEI) پروگراموں کے خاتمے سے متعلق اقدامات اور مجوزہ گولڈن ڈوم میزائل ڈیفنس سسٹم کے لیے فنڈنگ شامل ہے۔
یورپ اور نیٹو سے متعلق شقیں
قانون میں یوکرین کے علاوہ یورپ سے متعلق دفعات بھی شامل ہیں، مثلاً بالٹک سیکیورٹی انیشی ایٹو کی حمایت، یورپ میں امریکی فوجی تعداد میں نمایاں کمی پر پینٹاگون کی صلاحیت پر پابندیاں۔
یہ بھی پڑھیے امریکی صدر ٹرمپ کی نئی سیکیورٹی اسٹریٹیجی جاری، یورپ کو نشانے پر لے لیا
یہ شقیں اس کے باوجود شامل کی گئیں کہ صدر ٹرمپ بارہا یورپی نیٹو ممالک پر امریکا پر حد سے زیادہ انحصار کرنے پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
کیریبین میں فوجی کارروائیوں پر کانگریس کی نظر
یہ قانون کیریبین میں حالیہ امریکی فوجی کارروائیوں پر کانگریس کی بڑھتی نگرانی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ایک شق کے تحت وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کے سفری بجٹ کا کچھ حصہ اس وقت تک روکا جائے گا جب تک قانون سازوں کو مبینہ منشیات اسمگلنگ میں ملوث جہازوں پر حملوں سے متعلق غیر ترمیم شدہ ویڈیوز اور احکامات فراہم نہیں کیے جاتے۔
ٹرمپ کا مؤقف اور روس کا ردعمل
صدر ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ امریکا کو یوکرین پر اربوں ڈالر خرچ کرنا بند کرنا چاہیے اور ان کی حکومت روس کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل کی کوشش کر رہی ہے۔
دوسری جانب، روس نے مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو مسلسل فوجی امداد کی سخت مذمت کی ہے، اسے تنازع کی بنیادی وجوہات میں سے ایک اور جنگ بندی کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔












