فن لینڈ کی حکومت اور مس فن لینڈ تنظیم کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا ہے جب 2025 مس یونیورس مقابلے کے لیے منتخب کی گئی مس فن لینڈ سارہ دزافسے کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جسے ایشیائی برادری کے خلاف توہین آمیز اور نسل پرستانہ قرار دیا گیا۔
وائرل تصویر میں 22 سالہ سارہ دزافسے کو آنکھوں کے کنارے کھینچتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ تصویر کے ساتھ لکھا گیا کیپشن ’ایک چینی کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے‘ بھی شدید ردِعمل کا باعث بنا۔ اس تصویر پر فن لینڈ اور متعدد ایشیائی ممالک میں سرکاری اور عوامی سطح پر سخت مذمت کی گئی۔
View this post on Instagram
ستمبر میں مس فن لینڈ کا اعزاز حاصل کرنے والی سارہ دزافسے نے وضاحت کی کہ وہ سر درد کم کرنے کی کوشش کر رہی تھیں اور یہ تصویر ایک دوست نے ان کی اجازت کے بغیر شائع کی۔ انہوں نے 8 دسمبر کو سوشل میڈیا پر معذرت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کسی کی دل آزاری کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ مس فن لینڈ کا خطاب محض ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے اور وہ اپنے عمل کی مکمل ذمہ داری قبول کرتی ہیں۔ تاہم چند روز بعد مس فن لینڈ تنظیم نے سارہ دزافسے سے مس فن لینڈ 2025 کا خطاب واپس لے لیا۔ تنظیم کے مطابق حالیہ واقعات نے فن لینڈ اور بین الاقوامی سطح پر شدید دکھ اور تشویش پیدا کی اور نسل پرستی کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فن لینڈ نے غیر ملکی باشندوں کے رہائشی اجازت نامے کے قوانین تبدیل کر دیے
یہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب چند انتہائی دائیں بازو کے فن لینڈ کے سیاست دان سارہ دزافسے کی حمایت میں سامنے آئے جب ان سے تاج واپس لیا گیا۔ حکمران اتحاد کا حصہ بننے والے پارلیمنٹ کے اراکین نے اپنی تصاویر پوسٹ کیں جن میں وہ بھی آنکھوں کے گرد جلد کھینچتے نظر آئے۔
اس کے بعد فن لینڈ کے وزیر اعظم پیٹیری اورپو نے جاپان اور جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک سے معذرت کی جن کے بیانات ان ممالک کی زبانوں میں فن لینڈ کے سفارت خانوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شائع کیے گئے۔
وزیر اعظم کے مطابق یہ اقدامات فن لینڈ کی مساوات اور شمولیت کی اقدار کی عکاسی نہیں کرتے اور حکومت نسل پرستی کے خلاف سخت مؤقف رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے سے بنا فن یا سرمایہ داری پر طنز؟ دنیا کا مہنگا ترین ٹوائلٹ نیلامی کے لیے تیار
ادھر جاپان کی حکومت نے ٹوکیو میں فن لینڈ کے سفارت خانے سے رابطہ کر کے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی چیف کابینہ سیکریٹری منورو کیہارا نے کہا کہ جاپان اس معاملے پر مناسب ردِعمل کا منتظر ہے اور فن لینڈ سے قریبی رابطہ برقرار رکھے گا۔
واضح رہے کہ فن لینڈ ایشیائی سیاحوں کے لیے ایک اہم سیاحتی مقام ہے جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بعض صارفین نے فن لینڈ کے سفر اور قومی ایئر لائن فن ایئر کے بائیکاٹ کی اپیل بھی کی ہے۔












