امریکا کے وائٹ ہاؤس میں ایک غیر معمولی اور متنازع اقدام کے تحت سابق امریکی صدور کے خلاف سخت زبان پر مبنی تختیاں نصب کر دی گئی ہیں، جن میں سابق صدر جو بائیڈن اور باراک اوباما کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ تختیاں وائٹ ہاؤس کے کولونیڈ میں آویزاں صدارتی تصاویر کے نیچے لگائی گئی ہیں، جسے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ‘پریزیڈینشل واک آف فیم’ کا نام دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ نے امریکی تاریخ کے سب سے بڑے جنگی بجٹ پر دستخط کر دیے
جو بائیڈن کی تصویر کے نیچے نصب تختی میں انہیں ‘سلیپی جو بائیڈن’ قرار دیتے ہوئے امریکی تاریخ کا بدترین صدر کہا گیا ہے۔ تختی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بائیڈن ایک ‘انتہائی بدعنوان انتخابات’ کے نتیجے میں اقتدار میں آئے اور ان کے دور میں امریکا کو معاشی بدحالی، بلند ترین مہنگائی، سرحدی بحران اور خارجہ پالیسی کی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
تختیوں کے مطابق افغانستان سے انخلا کو امریکی تاریخ کے سب سے ذلت آمیز واقعات میں سے ایک قرار دیا گیا ہے، جبکہ روس یوکرین جنگ اور اسرائیل پر حملے کو بائیڈن کی کمزوری سے جوڑا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جوبائیڈن کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس پہنچنے پر استقبال
باراک اوباما کے بارے میں نصب تختی میں انہیں ‘امریکی تاریخ کی سب سے منقسم شخصیات میں سے ایک’ کہا گیا ہے۔ تختی میں اوباما کی صحت اصلاحات، ایران نیوکلیئر معاہدے اور پیرس ماحولیاتی معاہدے کو ناکام پالیسیاں قرار دیا گیا ہے، جبکہ ان پر سیاسی سازشوں کے الزامات بھی دہرائے گئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق ان میں سے کئی تختیوں کا متن خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تحریر کیا۔ دوسری جانب، بائیڈن، اوباما اور بل کلنٹن کے دفاتر نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔














