بنگلہ دیش کے معروف نوجوان طالبعلم رہنما عثمان ہادی جو گزشتہ روز سنگاپور میں دوران علاج انتقال کرگئے تھے، کی میت ڈھاکہ پہنچ گئی۔
بنگلہ دیش کی قومی ایئرلائن کی فلائٹ عثمان ہادی کے جسد خاکی کو لے کر جمعہ کی شام ڈھاکہ پہنچی، جہاں رقت آمیز مناظر دیکھے گئے۔
مزید پڑھیں: عثمان ہادی قتل، ڈھاکا میں بھارتی ہائی کمیشن پر حملہ، اخبارات کے دفاتر نذر آتش
عثمان ہادی جولائی میں حسینہ واجد حکومت کے خاتمے کا سبب بننے والی طلبہ تحریک کے نمایاں رہنما تھے اور طلبہ قائدین کے قائم کردہ سیاسی پلیٹ فارم انقلاب منچہ کے ترجمان کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے تھے۔
عثمان ہادی کو گزشتہ جمعے ڈھاکا میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے زخمی کردیا تھا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ابتدائی سرجری کی گئی۔
بعد ازاں بہتر علاج کے لیے ہفتے کے روز انہیں سنگاپور منتقل کیا گیا، تاہم وہ علاج کے دوران جانبر نہ ہو سکے، اور گزشتہ روز انتقال کرگئے۔
عثمان ہادی آئندہ بنگلہ دیشی انتخابات میں آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لینے کے خواہشمند تھے۔
مزید پڑھیں: ڈھاکہ، انقلاب منچہ کے ترجمان عثمان ہادی پر حملے کے ملزمان کی شناخت ہوگئی
عثمان ہادی کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد دارالحکومت ڈھاکا میں شدید ہنگامے شروع ہوگئے، اور مظاہرین نے توڑ پھوڑ کی۔
واضح رہے کہ عثمان ہادی پر قاتلانہ حملے کا الزام بھارت پر عائد کیا جا رہا ہے۔














