بیلجیئم کے 170 سے زائد معروف فنکاروں اور ثقافتی شخصیات نے اپنے قومی نشریاتی ادارے کی جانب سے 2026 کے یوروویژن سونگ کانٹیسٹ میں اسرائیل کے ساتھ شرکت کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔
ان فنکاروں نے ایک مشترکہ خط میں مطالبہ کیا ہے کہ بیلجیئم کا قومی براڈکاسٹر گائیکی کے اس مقابلے کا بائیکاٹ کرے، کیونکہ ان کے بقول اسرائیل ثقافتی تقریبات کو سیاسی مقاصد اور پروپیگنڈے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیل کی شرکت کے بعد آئس لینڈ بھی احتجاجاً یوروویژن مقابلوں سے دستبردار
خط پر دستخط کرنے والوں میں اداکار، ہدایت کار اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو یوروویژن میں شرکت کی اجازت دینا غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں کو معمول پر لانے کے مترادف ہے۔
بیلجیئم کے روزنامہ لا لیبر کے مطابق، فنکاروں نے یورپی براڈکاسٹنگ یونین پر دہرا معیار اپنانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد روس کو صرف 48 گھنٹوں کے اندر یوروویژن سے باہر کر دیا گیا تھا، جبکہ اسرائیل جاری تنازع کے باوجود بدستور مقابلے میں شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیے: نیدرلینڈز کا اسرائیل کی شرکت کی صورت میں یورو ویژن 2026 مقابلوں کے بائیکاٹ کا اعلان
خط میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت بڑے ثقافتی پروگراموں کو ایک جدید اور مثالی مغربی جمہوریت کے طور پر اپنی شبیہ بنانے کے لیے استعمال کرتی ہے، جس کے ذریعے فلسطینیوں سے متعلق اس کی پالیسیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
فنکاروں نے بیلجیئم کے نشریاتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی عوامی خدمت کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اس وقت تک یوروویژن 2026 میں شرکت منسوخ کریں جب تک اسرائیل کو اس مقابلے میں خوش آمدید کہا جاتا ہے۔














