غزہ میں جاری جنگ بندی کے اگلے مرحلے کو آگے بڑھانے کے لیے جمعہ کو امریکی شہر میامی میں اہم مذاکرات متوقع ہیں، تاہم حماس نے واضح کیا ہے کہ ان بات چیت کا بنیادی مقصد اسرائیلی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کو امید ہے کہ یہ مذاکرات اسرائیل کی جانب سے جاری قانون شکنی کو روکنے، تمام خلاف ورزیوں کے خاتمے اور اسرائیل کو شرم الشیخ معاہدے پر عمل درآمد کا پابند بنانے کا سبب بنیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: حماس مذاکرات کے لیے اسرائیلی تجویز سے مایوس
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف فلوریڈا میں قطر، مصر اور ترکیے کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر پیش رفت سست روی کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔
معاہدے کے دوسرے مرحلے کے تحت اسرائیل کو غزہ سے اپنی فوجی پوزیشنز سے انخلا کرنا ہے، حماس کی جگہ ایک عبوری فلسطینی انتظامیہ قائم ہونی ہے اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس تعینات کی جانی ہے۔ تاہم اکتوبر میں طے پانے والے اس معاہدے پر عمل درآمد تاحال محدود رہا ہے۔
حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک اسرائیلی فائرنگ سے کم از کم 395 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کی خلاف ورزیوں کے باعث 3 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیلی فوج کی غزہ سٹی میں کارروائی، حماس کے اہم کمانڈر کو شہید کرنے کا دعویٰ
باسم نعیم نے مطالبہ کیا کہ مذاکرات میں انسانی امداد کی غزہ میں فراہمی میں اضافے، رفح کراسنگ کو دونوں اطراف سے کھولنے، اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے ضروری سامان کی ترسیل پر بھی توجہ دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ بات چیت میں ٹرمپ منصوبے کے باقی نکات پر بھی عمل درآمد پر غور ہونا چاہیے تاکہ پائیدار استحکام، جامع تعمیرِ نو اور فلسطینیوں کی خود حکمرانی کی راہ ہموار ہو، جس کا مقصد ایک خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔
جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے غزہ میں موجود 48 یرغمالیوں کی رہائی کا وعدہ کیا تھا، جن میں سے ایک لاش کے سوا تمام یرغمالی واپس کیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیوں سے غزہ امن معاہدے کو سنگین خطرہ ہے، قطر نے خبردار کردیا
تاہم دوسرے مرحلے میں حماس سے اسلحہ ڈالنے کی شرط ایک بڑا تنازع بنی ہوئی ہے۔ حماس کے غزہ سربراہ خلیل الحیہ کا کہنا ہے کہ اسلحہ رکھنا ان کا جائز حق ہے، جبکہ اسرائیل مسلسل حماس کو غیر مسلح کرنے پر زور دے رہا ہے۔
جنگ بندی کے تیسرے مرحلے میں اسرائیلی حملوں سے تباہ ہونے والے غزہ کی وسیع پیمانے پر تعمیرِ نو کے منصوبے شامل ہیں۔














