وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ توشہ خانہ کیس ٹو کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا دن قوم کے لیے ایک تکلیف اور شرمندگی کا دن ہے کیونکہ سیاست کے نام پر دوسروں کو چور اور ڈاکو کہہ کر ایسے لوگ اقتدار تک پہنچے، جن کا مقصد سیاست کرنا نہیں بلکہ ہیرے اور پیسے اکٹھے کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:توشہ خانہ کیس 2: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17- 17 سال قید اور جرمانے کی سزا
نجی ٹیلیویژن سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ان لوگوں کے لیے آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونا چاہیے، جو ایسے شخص کو صادق اور امین کہتے رہے اور جھوٹے فیک ڈاکومنٹس کے ذریعے اس کا ٹیگ لگاتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ توشہ خانہ کے تحائف کے لیے 50 فیصد ادائیگی کرنا ہوگی، لیکن تحائف کی قیمت انڈر انوائسنگ کر کے 58 لاکھ روپے لگائی گئی، جب کہ اصل قیمت 7 کروڑ روپے تھی، جو بددیانتی کی واضح مثال ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ بشریٰ بی بی نے بھی اعتراف کیا کہ توشہ خانہ سے آنے والے تحائف کا ریکارڈ نہیں رکھا گیا اور وہ خاموشی سے اندر پہنچائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگوں نے ہمیشہ الزام لگایا، لیکن آج عدالت نے واضح کیا کہ ان پر کچھ ثابت نہیں ہوا اور انصاف کا بول بالا ہوا۔














