اسرائیل ایک بار پھر ایران پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہا ہے، اس حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کو بریفنگ دینے کی تیاری بھی کی جارہی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے پھیلاؤ پر تشویش کے پیش نظر امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ممکنہ نئے فوجی حملوں کے اختیارات پر بریف کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل ایران جنگ کے 40 دن بعد، ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای نے قوم کے لیے نئے اہداف کا اعلان کردیا
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام یہ مؤقف پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام نئی خطرے کی حیثیت رکھتا ہے، اسرائیل کا خیال ہے کہ ایران بیلسٹک میزائل کی تیاری سے متعلق تنصیبات دوبارہ تعمیر کررہا ہے اور پہلے حملوں میں متاثر ہونے والی ہوائی دفاع کی تنصیبات کی مرمت کررہا ہے، جسے وہ جوہری افزودگی کی کوششوں سے زیادہ فوری مسئلہ سمجھتے ہیں۔
ایک ماہر کے مطابق ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں توجہ طلب معاملات ہیں، لیکن فوری خطرہ بیلسٹک میزائل پروگرام ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اس ماہ کے آخر میں ٹرمپ سے ملاقات میں اس مسئلے کو اٹھائیں گے اور کسی بھی مستقبل کے اقدام میں امریکی حمایت یا شراکت کے اختیارات پر بات کریں گے۔
’ایران کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ کردیا‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بار بار کہا ہے کہ جون میں کیے گئے امریکی حملوں نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ کر دیا تھا اور تہران کو دوبارہ تعمیر کی کوشش سے خبردار کیا۔
انہوں نے کہا ’اگر وہ بغیر کسی معاہدے کے واپس آنا چاہتے ہیں تو ہم اسے بھی مکمل طور پر ختم کردیں گے۔ ہم ان کے میزائل بہت تیزی سے تباہ کرسکتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیں: ایران کے اسرائیل پر ایک بار پھر میزائل حملے، حزب اللہ کا ایران کی حمایت کا اعلان
امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) اور ایران نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جون کے حملوں نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے 13 جون کو ایران کے جوہری مراکز، سینیئر فوجی اہلکاروں اور سائنسدانوں کو نشانہ بنایا اور تہران پر خفیہ جوہری ہتھیار پروگرام چلانے کا الزام لگایا۔ امریکا نے 22 جون کو ایران کے 3 جوہری مراکز پر حملے کیے۔
ایران نے الزامات کی تردید کی اور قطر میں امریکی اڈے پر میزائل حملوں کے ذریعے جواب دیا۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب آئی اے ای اے ایران سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ نطنز، فورڈو اور اصفہان میں متاثرہ جوہری مقامات تک رسائی دے تاکہ یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ آیا یہ مقامات قابل رسائی ہیں یا نہیں، جسے تہران نے غیر معقول قرار دیا ہے۔














