بڑھتی عمر کے ساتھ ہڈیوں کی کمزوری اور فریکچر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور ماہرین کے مطابق مناسب مقدار میں کیلشیم اور وٹامن ڈی کا استعمال اس خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ خاص طور پر 50 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے یہ غذائی عناصر مزید ضروری ہو جاتے ہیں۔
امریکی ادارے ہیلتھ ڈے نیوز کے مطابق بوسٹن کی ٹفٹس یونیورسٹی کی سینئر سائنس دان ڈاکٹر بیس ڈاؤسن ہیوز کا کہنا ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ہڈیوں کا گھناؤ تیزی سے کم ہوتا ہے، جبکہ خواتین میں یہ عمل مینوپاز کے دوران اور اس کے بعد خاص طور پر بڑھ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آپ جو انڈہ کھا رہے ہیں وہ اصلی ہے یا نقلی؟ فیکٹری میں بنے جعلی انڈوں کی ویڈیو وائرل
ان کے مطابق خواتین اپنی ماہواری بند ہونے کے بعد 5 سال تک ہر سال تقریباً 3 فیصد تک ہڈیوں کی بھرائی کھو دیتی ہیں، جبکہ اس کے بعد یہ کمی تقریباً ایک فیصد سالانہ رہ جاتی ہے۔
ڈاکٹر کے مطابق مردوں میں بھی اسی طرح 50 سال کی عمر کے بعد ہڈیوں کا گھناؤ ہر سال ایک فیصد تک کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کمی کے باعث ہڈیوں کی کمزوری اور گرنے کی صورت میں فریکچر کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

وٹامن ڈی کی کمی سے پٹھوں کی طاقت اور توازن بھی متاثر ہوتا ہے، جس سے گرنے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ستر اور اسی کی دہائی میں داخل افراد میں کولہے کے فریکچر عام دیکھے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر ہیوز خبردار کرتی ہیں کہ عمر رسیدہ افراد میں سپلیمنٹ کا ضرورت سے زیادہ استعمال نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے۔ بہت زیادہ کیلشیم گردوں میں پتھری کا خطرہ بڑھاتا ہے جبکہ وٹامن ڈی کی بلند مقدار بھی فریکچر اور گرنے کا امکان بڑھا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق 51 سال سے زائد خواتین اور 71 سال سے زائد مردوں کے لیے روزانہ 1200 ملی گرام کیلشیم جبکہ 51 سے 70 سال کے مردوں کیلئے 1000 ملی گرام کیلشیم تجویز کیا جاتا ہے۔ اسی طرح 51 سے 70 سال عمر والے بالغ افراد کے لیے 15 مائیکروگرام اور 70 سال سے زائد کیلئے روزانہ 20 مائیکروگرام وٹامن ڈی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سردیوں میں وٹامن ڈی کی کمی کو کیسے پورا کیا جائے؟
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ دودھ، دہی اور پنیر کیلشیم کا بہترین ذریعہ ہیں، اور اگر روزانہ 2 ڈیری سروِنگ نہ مل سکے تو 500 ملی گرام کیلشیم سپلیمنٹ مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

وٹامن ڈی کا اہم ذریعہ سورج کی روشنی ہے لیکن شمالی علاقوں میں سردیوں کے مہینوں میں سورج کا زاویہ ایسا نہیں رہتا کہ جسم وٹامن ڈی بنا سکے، اس لیے ایسے افراد کے لیے 800 سے 1000 آئی یو روزانہ سپلیمنٹ تجویز کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی عمر میں بھوک کم ہونے کے باعث خوراک سے ضروری غذائی مقدار لینا مشکل ہوتا ہے، لہٰذا بزرگ افراد کو اپنی غذا کی مقدار اور معیار پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔














