بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ 2 کیس میں اڈیالہ جیل میں 17، 17 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ فیصلے کے بعد وکیل سلمان صفدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان ہمیشہ کی طرح مسکرا رہے تھے، جبکہ جج نے فیصلہ ملزمان اور وکلا کی موجودگی کے بغیر پڑھا۔
یہ بھی پڑھیں:توشہ خانہ کیس 2: عمران خان کی نئی سزا 90 ملین پاؤنڈ کیس کی سزا ختم ہونے کے بعد شروع ہوگی، عطا تارڑ
منگل کی رات وکلا سے تصدیق کے بعد یہ واضح ہو چکا تھا کہ اگلی صبح سماعت اڈیالہ جیل میں ہوگی۔ سماعت صبح 9 بجے مقرر تھی اور میڈیا ٹیمیں و ڈی ایس این جی اسٹاف پہلے ہی جیل پہنچ چکے تھے۔ سب سے پہلے سینیئر پراسیکیوٹر عمیر مجید اپنے دو ماتحت پراسیکیوٹرز کے ہمراہ جیل پہنچے، بعد ازاں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اسلام آباد افضل خان نیازی اور ایس ایچ او شمس گوندل بھی آئے۔ تقریباً 9 بجے کے قریب جج شاہ رخ ارجمند بھی پہنچے، تاہم وکلا کی غیر موجودگی کے باعث وہ اپنے چیمبر میں چلے گئے۔
وکلا کی آمد اور فیصلہ
وکیل ارشد تبریز تقریباً 10 بج کر 8 منٹ پر کمرہ عدالت پہنچے۔ کمرہ عدالت ایک بڑے ہال پر مشتمل تھا، جس کے 2 داخلی دروازے ہیں، ایک صحافیوں کے لیے اور دوسرا عمران خان، بشریٰ بی بی اور وکلا کے لیے مخصوص تھا۔ اس دن عمران خان اور بشریٰ بی بی پچھلے حصے میں دروازے کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، بشریٰ بی بی نے اپنا سر عمران خان کے کندھے کے قریب رکھا تھا۔

فاضل جج کے کمرہ عدالت میں آنے کے بعد وکلا کی موجودگی کی تصدیق کے بعد مختصر فیصلہ پڑھا گیا اور جج عدالت سے روانہ ہو گئے۔ سلمان صفدر اور فاضل جج کی راہداری میں بھی ملاقات ہوئی، جس دوران جج نے بتایا کہ فیصلہ سنایا جا چکا ہے۔
ملزمان اور وکلا کا ردعمل
سلمان صفدر کمرہ عدالت میں داخل ہوئے اور عمران خان کے سامنے بیٹھ گئے۔ عمران خان نے دیگر وکلاء کی تاخیر پر سوال کیا، جس پر بشریٰ بی بی نے بھی سوال کیا کہ سلمان صفدر اتنی دیر سے کیوں آئے۔ سلمان صفدر نے وضاحت کی کہ رش کی وجہ سے معمولی تاخیر ہوئی۔ بعد ازاں عمران خان و وکلا فیصلے کے قانونی نکات پر گفتگو کرتے رہے۔

فیصلے سے قبل عمران خان کی تیاری
ذرائع اڈیالہ جیل کے مطابق، فیصلے سے ایک روز قبل عمران خان کو معلوم ہوا کہ اگلی صبح فیصلہ سنایا جا سکتا ہے، تو انہوں نے جیل عملے سے نیند کی گولیاں بھی مانگی تھیں۔














