اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں انسانی نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے۔
شمالی مغربی کنارے کے قصبہ قباطیہ میں 16 سالہ ریحان محمد کو اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید کردیا گیا جب وہ اپنے گھر کی جانب جارہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیوں سے غزہ امن معاہدے کو سنگین خطرہ ہے، قطر نے خبردار کردیا
فلسطینی ریڈ کریسنٹ کی ایمبولینس کو زخمی تک پہنچنے سے روکا گیا، جس کے باعث وہ شدید خون بہنے کے بعد جان کی بازی ہار گیا۔ ان کی لاش اسرائیلی فورسز کے قبضے میں ہے۔ اسی روز سلات الحریثیہ میں 22 سالہ احمد زیود بھی حملے میں شہید ہوئے۔
اسی دوران غزہ میں شادی کی تقریب پر ہونے والے حملے میں کم از کم چھ افراد جاں بحق ہوئے، جن میں پانچ ماہ کا بچہ بھی شامل تھا۔ امریکی انسانی حقوق کی تنظیم نے اس کارروائی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے اسرائیل کی جنگ بندی کی وعدہ خلافی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں ڈیڑھ سال کے دوران ہزاروں مریض بیرون ملک علاج کے انتظار میں انتقال کر گئے، ڈبلیو ایچ او
غزہ کے طبی نظام کی حالت بھی انتہائی نازک ہو چکی ہے۔ 2 سالہ محاصرے اور مسلسل حملوں کے بعد اسپتالوں میں ادویات، میڈیکل سپلائیز اور بنیادی طبی خدمات کی کمی نے معمولی امراض کو بھی مہلک بنا دیا ہے۔ ہزاروں مریض بنیادی علاج سے محروم ہیں اور زندگی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
یہ تازہ شہادتیں اور انسانی نقصان غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری بحران کی سنگینی کو واضح کرتی ہیں، جہاں معصوم شہری ہر لمحہ اپنی جان کے خطرے میں ہیں اور عالمی برادری کے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔














