آسٹریلیا کے ساحلی علاقے بونڈی بیچ میں یہودی تہوار حنوکا کے موقع پر ہونے والے خونریز حملے سے متعلق عدالت میں پیش کی گئی نئی دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارتی نژاد حملہ آور باپ بیٹا اس کارروائی کی کم از کم 2 ماہ سے منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
آسٹریلوی اخبار سڈنی مارننگ ہیرالڈ نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ نوید اکرم (24 سال) اور اس کے والد ساجد اکرم (50 سال) نے اکتوبر میں اس حملے کی تیاری تیز کر دی تھی۔ نوید اکرم پر 15 افراد کے قتل سمیت درجنوں الزامات عائد کیے گئے ہیں، جبکہ اس کا والد حملے کے دوران پولیس فائرنگ سے ہلاک ہو گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے بونڈی بیچ واقعہ: حملہ آور بھارتی شہری تھے، فلپائن امیگریشن نے تصدیق کر دی
عدالتی دستاویزات کے مطابق دونوں ملزمان نے اکتوبر میں جنوب مغربی سڈنی میں ایک ایئر بی این بی بک کیا، جہاں وہ دسمبر کے اوائل میں منتقل ہوئے۔ اسی دوران انہوں نے دیہی نیو ساؤتھ ویلز میں فائرنگ کی مشقیں کیں اور حکمتِ عملی کی ریہرسل کی۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے ایک ویڈیو منشور بھی ریکارڈ کیا جس میں وہ ایک کمرے میں داعش کے جھنڈے کے سامنے بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو میں نوید اکرم قرآنِ مجید کی آیات عربی میں پڑھتا ہے جبکہ دونوں انگریزی میں اپنے حملے کے محرکات بیان کرتے اور مبینہ طور پر ’صیہونیوں‘ کے خلاف نفرت انگیز گفتگو کرتے ہیں۔
اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے 6 آتشیں اسلحے، 3 پائپ بم، ایک ’ٹینس بال بم‘ اور ایک بڑا دیسی ساختہ بم (IED) تیار کیا تھا۔ حملے کے آغاز میں انہوں نے 4 بم ہجوم کی جانب پھینکے جو خوش قسمتی سے پھٹے نہیں، تاہم انہیں مکمل طور پر قابلِ استعمال قرار دیا گیا۔
سی سی ٹی وی اور نقل و حرکت
سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق 12 دسمبر کو دونوں نے بانڈی بیچ جا کر جائے وقوعہ کی ریکی کی، 14 دسمبر کو علی الصبح اسلحہ اور بم کمبلوں میں لپیٹ کر گاڑی میں رکھے، شام کو گاڑی میں داعش کے جھنڈے لگائے، اس کے بعد یہودی تہوار میں شریک لوگوں پر فائرنگ شروع کر دی۔
یہ بھی پڑھیں:سڈنی: یہودیوں کی تقریب میں فائرنگ، ہلاکتوں کی تعداد 16ہوگئی
حملہ تقریباً 6 سے 7 منٹ جاری رہا۔ اس دوران 15 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے۔ بعد میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ساجد اکرم کو ہلاک جبکہ نوید اکرم کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔
پولیس چھاپے
حملے کے بعد چھاپوں میں اسلحہ، بم بنانے کا سامان، 3 ڈی پرنٹر سے بنائے گئے ہتھیاروں کے پرزے، داعش کے ہاتھ سے بنے جھنڈے اور قرآنِ مجید کے نسخے جن میں بعض مقامات نشان زدہ تھے برآمد کیے گئے۔
نوید اکرم کو اسپتال سے فارغ کر کے جیل منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔













