قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پی ٹی وی اور متعلقہ اداروں میں سربراہان کی تعیناتیوں میں تاخیر پر سخت تشویش ظاہر کی گئی، جبکہ سرکاری ٹی وی کے انتظامی امور پر تفصیلی سوالات اٹھائے گئے۔
مزید پڑھیں: سیاسی بھرتیوں نے پی ٹی وی کو تباہ کیا، عطااللہ تارڑ
اجلاس کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کمیٹی کو آگاہ کیاکہ پاکستان ٹیلی وژن میں طویل عرصے سے انتظامی بدانتظامی جاری رہی ہے اور ادارے میں ایک منظم مافیا نے نظام کو متاثر کر رکھا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں کے باعث پی ٹی وی میں ملازمین کی تعداد ضرورت سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے اور 10 ہزار ملازمین کے ساتھ ادارے کو مؤثر طور پر چلانا ممکن نہیں۔
وزیر اطلاعات نے واضح کیاکہ ادارے میں اصلاحات ناگزیر ہیں اور مافیا اور اصلاحات ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔
عطااللہ تارڑ نے اجلاس میں انکشاف کیا کہ پی ٹی وی میں ایک مالی کو پروڈیوسر بھرتی کرلیا گیا۔
کمیٹی اجلاس میں پی ٹی وی میں بغیر ٹینڈر تزئین و آرائش کے منصوبوں، ملازمین کی تنخواہوں اور مجموعی کارکردگی پر بھی سوالات کیے گئے، جس پر قائمہ کمیٹی نے متعلقہ امور کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی وی کو شدید مالی بحران کا سامنا، 11 ارب روپے کا بجٹ ناکافی ہوگیا
مزید برآں، پیمرا، پی ٹی وی اور دیگر اداروں میں سربراہان کی تقرری میں تاخیر اور ویج بورڈ ایوارڈ کے التوا پر بھی تحفظات سامنے آئے۔
وزیر اطلاعات نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ ویج بورڈ ایوارڈ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران اتفاقِ رائے سے پیمرا ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کی منظوری بھی دے دی گئی۔














