بنگلہ دیش ہائی کمیشن نے نئی دہلی میں واقع اپنے دفتر کے باہر پیش آنے والے سیکیورٹی واقعے کے بعد تمام ویزا اور قونصلر خدمات کو وقتی طور پر معطل کردیا ہے۔
بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ کے سینیئر حکام نے تصدیق کی کہ نئی دہلی میں مشن کی ویزا اجرا اور دیگر قونصلر خدمات غیر معینہ مدت کے لیے بند رہیں گی، جس کی وجہ حالیہ غیر متوقع حالات ہیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش نے نئی دہلی ہائی کمیشن واقعے پر بھارتی دعوے کی تردید کردی
حکام کے مطابق ہفتے کی رات قریباً 20 سے 25 افراد پر مشتمل ایک انتہا پسند تنظیم نے ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کیا اور بنگلہ دیش مخالف نعرے لگائے۔ اس دوران مظاہرین نے بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر برائے بھارت، ایم ریاض حمید اللہ کو بھی دھمکیاں دیں۔
ڈھاکہ میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں بنگلہ دیش کے مشیر برائے خارجہ امور محمد توحید حسین نے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہاکہ ہائی کمیشن ایک انتہائی محفوظ سفارتی علاقے میں واقع ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ افسوسناک ہے کہ ایسے عناصر مشن کے گرد و نواح تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، واقعے کے بعد ہائی کمشنر اور ان کے اہل خانہ کو شدید ذہنی دباؤ کا سامنا ہے اور وہ اپنی حفاظت کے بارے میں غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں۔
ویزا خدمات کی معطلی سے دہلی مشن کے ذریعے سفر کے دستاویزات حاصل کرنے والے بنگلہ دیشی اور بھارتی شہری متاثر ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی ہم منصبوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور سفارتی عملے اور مشن کی حفاظت کے لیے یقین دہانی کی توقع رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: نئی دہلی میں بنگلہ دیشی مشن کو خطرہ، سفیر کو دھمکیاں
یہ پیش رفت ڈھاکہ اور نئی دہلی کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے، جس میں حالیہ تبادلے اور واقعات نے دونوں ممالک میں سفارتی مشنز کے تحفظ پر توجہ مرکوز کردی ہے۔












