کراچی میں تمام مکاتب فکر کے علما کی جانب سے 10 نکاتی اعلامیہ میں کیا ہے؟

منگل 23 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مجلس اتحاد امت کے تحت منعقدہ علمی ومشاورتی مجلس میں علما کی جانب 10 رکنی اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں شریعت کے لیے فوری قانون سازی کی جائے۔ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون قابلِ قبول نہیں ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پارلیمنٹ میں پیش کی جائیں۔ غیر اسلامی قوانین کے خاتمے کے لیے وفاقی شرعی عدالت کو مؤثر بنایا جائے۔

اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ شریعت اپیلیٹ بینچ میں علما ججز کی فوری تقرری کی جائے۔ 2028 تک سود کے مکمل خاتمے پر ہر صورت عمل کیا جائے ۔ سودی نظام میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں ناقابلِ قبول ہوں گی۔ بین الاقوامی معاہدات آئین پاکستان سے بالاتر نہیں ہو سکتے۔ آئین میں دی گئی سود کے خاتمے کی مدت پر مکمل عمل کیا جائے، 27ویں آئینی ترمیم قرآن و سنت سے متصادم ہے۔

مزید پڑھیں: فضل الرحمان حافظ نعیم ملاقات: ’مجلس اتحاد امت‘ کے نام سے پلیٹ فارم بنانے کا اعلان

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکمرانوں اور اداروں کو قانون سے بالاتر قرار دینا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے چائلڈ میرج ایکٹ اسلام کے خلاف ہے اسے فوری منسوخ کیا جائے۔ نکاح پر عمر کی پابندی غیر شرعی اور معاشرتی بگاڑ کا سبب ہے۔ ٹرانسجینڈر ایکٹ شریعت کے منافی ہے اس پر نظرثانی ضروری ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے مسائل بات چیت سے حل کیا جائے۔

اعلامیے کے مطابق مدارس و جامعات دینیہ کی آزادی اور خود مختاری ضروری ہے۔ مدارس کو جبری نظام کے تحت لانا ناقابلِ قبول ہے، فلسطین کی آزادی کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔حماس کو غیر مسلح کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔ پاکستان سے فلسطین کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہ بنے۔

مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی معاہدے اس وقت تک کسی قانونی حیثیت کے حامل نہیں ہوتے جب تک وہ پارلیمنٹ میں پیش ہو کر باقاعدہ قانون نہ بن جائیں۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم میں کئی امور متنازع ہیں اور اس ترمیم کے ذریعے عدلیہ پر قدغن لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔

سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے وقت حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت موجود نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 26ویں ترمیم میں حکومت کو 34 شقوں سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا اور اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ رکھا۔

مزید پڑھیں: اپنے ہی پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے، اپوزیشن کا باضابطہ اتحاد موجود نہیں، مولانا فضل الرحمان

مفتی منیب الرحمان نے افغان حکومت سے اپیل کی کہ کابل میں علمائے کرام کی دوسرے ممالک میں مداخلت نہ کرنے قرارداد کو افغانستان کی ریاستی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔ دیگر علما نے بھی حکومت کی جانب سے ٹرانسجینڈر قانون سمیت دیگر قانون سازی کی بھی مخالفت کی۔

مفتی تقی عثمانی نے اس موقع پر کہا کہ وہ ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کے خلاف ہیں اور آئینی و جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی نے زور دیا کہ وفاقی شرعی عدالت میں علما کرام کی تقرری فوری طور پر کی جائے۔ 26 ویں آئینی ترمیم کے مطابق سود کا خاتمہ کیا جائے۔

مولانا فضل الرحمان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے لیے حکومت نے جے یو آئی سے رابطہ کیا اور کوشش کی گئی کہ پی ٹی آئی کو الگ رکھا جائے، ہم نے پی ٹی آئی کو مشاورت میں شامل رکھا۔ کئی حکومتی ترامیم مسودے سے نکلوائیں اور سود کے خاتمے کی شق شامل کرائی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت نے زبردستی پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کی، ہمارا مطالبہ ہے کہ مدارس کے طے شدہ امور کو بار بار نہ چھیڑا جائے سوسائٹی ایکٹ کے تحت مدارس کی رجسٹریشن کی جائے۔

مزید پڑھیں: ایران کے خلاف اسرائیلی و امریکی جارحیت: اہم قانونی سوالات

مفتی منیب الرحمان نے خطاب میں کہا کہ مدارس سے متعلق جو قوانین طے ہوچکے ہیں، انہیں تسلیم کیا جائے۔ شورش زدہ علاقوں سے طلبا کو مدارس میں لاکر انہیں محبِ وطن پاکستانی بنایا جائے۔ جب بھی تحفظ پاکستان کا وقت آیا علما میدان میں آئے۔

اجتماع سے مولانا حنیف جالندھری، شجاع الدین، مولانا غفور حیدری، سینیٹر پیر نورالحق قادری، سید حامد سعید کاظمی، مولانا محمد سلفی، مولانا ابولخیر زبیر، علامہ سید ریاض حسین نجفی سمیت دیگر علما نے بھی خطاب کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان 40 جے ایف-17 طیاروں اور ڈرونز کی فروخت پر مذاکرات جاری، رائٹرز کی رپورٹ

کشمیر کی وادی شکسگام ہماری ہے، چین نے بھارت کی چھٹی کرادی

سیکیورٹی نے عامر خان کو اپنے ہی دفتر سے باہر کیوں نکال دیا؟

امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ

نیو یارک: وفاقی حکام کی جانب سے سٹی کونسل ملازم کی گرفتاری، میئر ظہران ممدانی کا شدید ردعمل

ویڈیو

سخت سردی میں سوپ پینے والوں کی تعداد میں اضافہ

سانحہ 9 مئی: سہیل آفریدی کی موجودگی ثابت، ایف آئی آر میں نامزد نہ کیا گیا تو عدالت سے رجوع کریں گے، وکیل ریڈیو پاکستان

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

کالم / تجزیہ

وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘