ایپسٹین فائلز کی مزید کھیپ جاری: یہ کونسی معلومات ہیں، اہم شخصیات کے اوسان کیوں خطا ہیں؟

منگل 23 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی محکمہ انصاف نے سزا یافتہ مجرم جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق مزید ہزاروں نئے دستاویزات جاری کر دیے۔

یہ بھی پڑھیں: ایپسٹین فائلز سے ٹرمپ کی تصویر ہٹانے پر طوفان، محکمہ انصاف تصویر بحال کرنے پر مجبور

یہ پیشرفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد سامنے منگل کو سامنے آئی ہے۔

محکمہ انصاف کو ڈیموکریٹس کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا رہا ہے جن کا کہنا ہے کہ ادارہ مکمل دستاویزات جاری کرنے میں ناکام رہا اور تحقیقاتی ریکارڈز میں بڑے پیمانے پر ترامیم (ریڈیکشن) کی گئیں۔

اس صورتحال کے بعد کانگریس نے متفقہ طور پر ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ منظور کیا جس کے تحت محکمہ انصاف کو جمعے تک تمام فائلز جاری کرنے کا پابند بنایا گیا۔

مزید پڑھیے: ایپسٹین فائلز جاری، بل کلنٹن کا تفصیلی ذکر، ٹرمپ بارے محدود معلومات

تازہ جاری کی گئی تقریباً 11 ہزار فائلز میں سیکڑوں آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگز، ای میلز اور اگست 2009 کی نگرانی کی فوٹیجز شامل ہیں جو ایپسٹین کی موت کا مہینہ تھا۔

امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایک ای میل کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام سنہ 1993 سے سنہ 1996 کے درمیان جیفری ایپسٹین کے نجی طیارے میں کم از کم 8 پروازوں کے مسافر کے طور پر درج ہے۔ یہ رپورٹ بی بی سی کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔

ای میل میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کم از کم 4 ایسی پروازوں میں شریک تھے جن میں گھسلین میکسویل بھی موجود تھیں۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ ایپسٹین کی جنسی اسمگلنگ میں شریک تھے یا نہیں، کچا چٹھا کھلنے کو تیار

اس کے علاوہ ٹرمپ بعض مواقع پر اپنی اس وقت کی اہلیہ مارلا میپلز، بیٹی ٹفنی اور بیٹے ایرک کے ہمراہ بھی سفر کرتے رہے۔

ایک پرواز میں سنہ 1993 کے دوران صرف ایپسٹین اور ٹرمپ ہی مسافر تھے جبکہ ایک اور پرواز میں ایپسٹین، ٹرمپ اور ایک 20 سالہ فرد شامل تھا جس کا نام صیغۂ راز میں رکھا گیا ہے۔

دستاویزات کے اس تازہ اجرا میں جیفری ایپسٹین کے ایک پرانے امریکی پاسپورٹ کی تصویر بھی شامل ہے جو فروری 1985 میں جاری ہوا تھا اور سنہ 1995 میں اس کی مدت ختم ہوگئی تھی۔

کیا کچھ پاکستانی شخصیات بھی متاثر ہوسکتی ہیں؟

یہ دستاویزات ایسے وقت میں جاری کیے گئے ہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایپسٹین فائلز کی اشاعت ان افراد کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے جنہوں نے ایپسٹین سے محض اتفاقاً ملاقات کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کی لیکڈ ای میلز: 2018 میں عمران خان ’امن کے لیے بڑا خطرہ‘ قرار

یہ پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی صدر نے ایپسٹین سے متعلق فائلز کے اجرا پر کھل کر رائے دی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان فائلز میں کچھ پاکستانی شخصیات کے نام آنے کا بھی خدشہ ہے تاہم ابھی تک اس کی کوئی واضح تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

جیفری اپیسٹین کون، مذکورہ فائلز میں کیا ہے؟

جیفری ایپسٹین ایک امریکی فنانسر تھا جو بااثر سیاسی، کاروباری اور شاہی شخصیات سے تعلقات کے باعث جانا جاتا تھا۔

جیفری اپیسٹین

سنہ 2008 میں اس پر کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کے الزامات ثابت ہوئے تاہم اس وقت اسے ایک متنازع اور نسبتاً نرم سزا ملی۔ بعد ازاں 2019 میں ایپسٹین کو انسانی اسمگلنگ اور جنسی جرائم کے سنگین الزامات کے تحت دوبارہ گرفتار کیا گیا اور مگر اگست 2019 میں وہ نیویارک کی جیل میں مردہ پایا گیا۔

مزید پڑھیں: بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کی لیکڈ ای میلز: 2018 میں عمران خان ’امن کے لیے بڑا خطرہ‘ قرار

حکام کے مطابق یہ خودکشی تھی تاہم اس کی موت نے شفافیت اور طاقتور شخصیات کے ممکنہ ملوث ہونے سے متعلق عالمی سطح پر شدید سوالات کو جنم دیا۔

ایپسٹین فائلز دراصل وہ سرکاری دستاویزات ہیں جو گواہیوں، سفری ریکارڈز، ای میلز اور شواہد پر مشتمل ہیں اور اس کے نیٹ ورک، رابطوں اور سرگرمیوں کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہیں۔

ان فائلز کی اشاعت کا مطالبہ اس لیے کیا جاتا رہا ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آیا بااثر افراد نے اس کے جرائم میں سہولت کاری کی یا اس سے فائدہ اٹھایا۔

امریکی کانگریس اور عوامی دباؤ کے نتیجے میں محکمۂ انصاف کو ان فائلز کی مرحلہ وار اشاعت پر مجبور ہونا پڑا جنہیں شفافیت، احتساب اور انصاف کے عمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

یہ دستاویزات کب اور کیسے منظر عام پر آئے

جیفری ایپسٹین کی جیل میں موت (اگست 2019) کے بعد اس سے متعلق دستاویزات کو منظرِ عام پر لانے کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا۔ ابتدا میں یہ ریکارڈز امریکی محکمۂ انصاف، ایف بی آئی اور عدالتوں کے پاس خفیہ تھے تاہم ایپسٹین کی موت کے بعد عوامی دباؤ، میڈیا رپورٹس اور متاثرین کی قانونی درخواستوں کے نتیجے میں سنہ 2020 سے عدالتوں کے ذریعے کچھ فائلز اور شواہد جزوی طور پر جاری ہونا شروع ہوئے۔

مزید پڑھیے: لڑکیوں کی اسمگلنگ: ایک متاثرہ لڑکی نے ٹرمپ کے ساتھ ’گھنٹوں گزارے‘، ایپسٹین کی نئی ای میلز سامنے آگئیں

بعد ازاں امریکی کانگریس اور سیاسی دباؤ کے تحت محکمۂ انصاف نے سنہ 2023 اور سنہ 2024 کے دوران مرحلہ وار مزید دستاویزات جاری کیے جن میں سفری ریکارڈز، ای میلز اور دیگر تحقیقاتی مواد شامل تھا تاہم کئی حصے حذف شدہ بھی تھے۔

حالیہ عرصے میں شفافیت سے متعلق قانون سازی کے بعد سنہ 2025 میں ان فائلز کی بڑی تعداد باضابطہ طور پر محکمۂ انصاف کی جانب سے عوام کے سامنے لائی گئی۔

یوں یہ دستاویزات کسی ایک دن لیک نہیں ہوئے بلکہ ایپسٹین کی موت کے بعد کئی برسوں پر محیط قانونی اور حکومتی عمل کے نتیجے میں بتدریج جاری کیے گئے۔

آخری کھیپ کب تک ریلیز ہوگی؟

اب تک تمام ایپسٹین دستاویزات مکمل طور پر جاری نہیں ہوئے۔

امریکی محکمۂ انصاف ہزاروں صفحات، ویڈیوز اور ای میلز عوام کے سامنے لایا ہے لیکن کچھ مواد حفاظتی وجوہات یا قانونی ریڈیکشنز کی وجہ سے اب بھی خفیہ ہے۔

کانگریس نے  ایپسٹین فائلز ٹرانسپرنسی ایکٹ منظور کیا تھا تاکہ تمام غیر خفیہ دستاویزات کو مقررہ وقت میں جاری کیا جائے لیکن محکمۂ انصاف نے اس قانون کے تحت صرف جزوی ریلیز کی ہے۔

آخری بڑی کھیپ منگل 23 دسمبر (آج) جاری ہوئی جس میں ہزاروں صفحات اور دیگر ثبوت (تقریباً 30 ہزار صفحات اور متعدد ویڈیو کلپس سمیت ایپسٹین فائلز کا ایک بڑا حصہ) شامل ہیں تاہم کئی دستاویزات اب بھی زیرِ جائزہ یا ریڈیکٹڈ ہیں۔ اس لیے مزید ریلیزز مستقبل قریب میں متوقع ہیں تاکہ شفافیت اور قانونی تحفظات کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: جیفری ایپسٹین اسکینڈل سے شاہ چارلس کی سابق بھابی، بھتیجیوں کا کیا تعلق تھا؟

یاد رہے کہ یہ تمام دستاویزات نہیں ہیں بلکہ کچھ فائلیں اب بھی زیرِ جائزہ یا ریڈیکٹ کی گئی ہیں اور مستقبل میں مزید ریلیزز متوقع ہیں کیونکہ حکومت اور عدالتیں اب بھی حساس مواد کی جانچ اور ریلیز کے عمل میں شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

کم عمر بچوں کا انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کے لیے حکومت کیا کررہی ہے؟

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

پی ٹی آئی میں اختلافات: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور آمنے سامنے، وجہ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟