بھاری بھرکم غذائیں کھانا دماغ پر کیا اثر ڈالتا ہے؟

منگل 23 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مذہبی یا دیگر تہواروں پر اکثر لوگ معمول سے کہیں زیادہ کھانا کھا لیتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا بھرپور کھانا ہمارے جسم اور خاص طور پر دماغ پر کیا اثر ڈالتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں: عید پر گوشت کا استعمال اور صحت کا خیال کیسے رکھا جائے؟

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین کے مطابق متوازن غذا دماغ کی اہم کارکردگیوں، جیسے یادداشت اور توجہ، کے لیے ضروری ہے اور ذہنی صحت میں بھی مدد دیتی ہے۔

تاہم جب ہم حد سے زیادہ کھاتے ہیں تو جسم میں ایک عمل شروع ہوتا ہے جسے سیچوریشن کیاسکیڈ کہا جاتا ہے۔ اس دوران آنتوں سے خارج ہونے والے ہارمونز اور توانائی بنانے والے اجزا دماغ کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ جسم بھر چکا ہے جبکہ لبلبہ انسولین خارج کرتا ہے تاکہ خون میں شوگر کو قابو میں رکھا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے کھانے کے بعد جو نیند یا سستی محسوس ہوتی ہے، جسے عام طور پر فوڈ کوما کہا جاتا ہے، اس کی وجوہات ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکیں۔

مزید پڑھیے: گوشت کے پکوان میں مصالحہ جات کی افادیت

پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ خون دماغ سے معدے کی طرف منتقل ہو جاتا ہے لیکن تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ایسا نہیں ہوتا۔ ممکنہ طور پر اس میں مختلف ہارمونز کا کردار ہوتا ہے تاہم اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کبھی کبھار زیادہ کھانا صحت کے لیے اتنا نقصان دہ نہیں ہوتا جتنا عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ سنہ 2020 میں ہونے والی ایک تحقیق میں صحت مند افراد نے معمول سے دگنا کھانا کھایا مگر ان کے خون میں شوگر اور چکنائی کی سطح معمول کے مطابق رہی۔

ماہرین کے مطابق جسم اضافی انسولین اور ہارمونز خارج کر کے خود کو متوازن رکھنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔

تاہم مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب زیادہ کھانا ایک دن یا کئی گھنٹوں تک مسلسل جاری رہے، خاص طور پر اگر اس میں زیادہ چکنائی، شکر اور الکحل شامل ہو۔

سنہ 2021 میں ہونے والی ایک تحقیق میں پایا گیا کہ طویل وقت تک حد سے زیادہ کھانے سے جگر میں چکنائی بڑھ گئی جو وقت کے ساتھ دماغ کو آکسیجن کی فراہمی اور اس کی صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان ارتقائی طور پر قحط اور بھوک سے نمٹنے کے لیے تیار ہوا ہے اس لیے کبھی کبھار زیادہ کھانا جسم برداشت کر لیتا ہے۔ لیکن طویل عرصے تک زیادہ کیلوریز لینا، خاص طور پر میٹھی اور چکنائی والی غذا، دماغ کی یادداشت، سیکھنے کی صلاحیت اور بھوک پر قابو پانے والے نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: صبح ناشتے میں ہر روز ایک مہینے تک کا جو کھانے کے 4 فائدے

نتیجتاً ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ایک دن کی دعوتوں کے کھانے یا تہواری ضیافت دماغ کے لیے نقصان دہ نہیں اور لوگ بے فکری سے تہوار منا سکتے ہیں۔ تاہم اگر یہ عادت کئی دنوں تک جاری رہے تو یہ جسم اور دماغ دونوں پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔ اعتدال ہی بہترین راستہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp