اسرائیلی کابینہ نے متفقہ ووٹ کے ذریعے فوج کے زیرانتظام ریڈیو اسٹیشن ’’آرمی ریڈیو‘‘ کی نشریات بند کرنے کی منظوری دے دی، جس پر ناقدین نے حکومت پر آزادیٔ اظہار محدود کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی فوج کی غزہ اور مغربی کنارے میں فائرنگ، 2 افراد شہید، انسانی بحران سنگین
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے 75 برس سے کام کرنے والے معروف فوجی ریڈیو اسٹیشن ’’گالی تزاہل‘‘ کو بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کی نشریات آئندہ برس مارچ تک ختم کر دی جائیں گی۔ یہ فیصلہ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی تجویز پر کیا گیا، جنہوں نے فوج کو اسٹیشن کے آپریشنز مرحلہ وار سمیٹنے کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔

وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ آرمی ریڈیو میں سیاسی نوعیت کے پروگرام فوج کی غیر جانبداری اور اندرونی یکجہتی کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق فوج کا کسی سیاسی بحث میں شامل ہونا ایک غیر معمولی اور نقصان دہ عمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل ایک بار پھر ایران پر حملوں کی تیاری کررہا ہے، امریکی میڈیا کا دعویٰ
وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ فوج کے زیر انتظام ایسا نشریاتی ادارہ جو عام عوام کے لیے کام کرے، دنیا میں شاذ و نادر ہی پایا جاتا ہے اور اسرائیل کو اس ماڈل کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں، صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے الزام لگایا کہ حکومت انتخابات کے قریب میڈیا پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے بھی خبردار کیا ہے کہ آزادیٔ اظہار پر اثرات کا جائزہ لیے بغیر یہ فیصلہ نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین کے مطابق آرمی ریڈیو کی بندش سے اسرائیل کی آزاد عوامی نیوز نشریات کا بڑا حصہ ختم ہو جائے گا، جبکہ ناقدین اسے اسرائیلی جمہوریت کے لیے ایک تشویشناک پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔













